خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 510

خطبات محمود ۵۱۰ سال ۱۹۳۸ ء خالق و مخلوق دونوں کے کامل مظہر بنو فرموده ۱۲ را گست ۱۹۳۸ ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - وو ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے حواس رکھے ہیں ۔ ایک وہ حواس ہیں جو اس کے تعلقات کو بیرونی دنیا سے قائم کرتے ہیں اور ایک وہ حواس ہیں جو اس کے تعلقات کو خود اس کے جسم کے اندرونی حصوں سے قائم کرتے ہیں ۔ یہ دونوں قسم کے حواس ا اپنی اپنی جگہ پر نہایت ہی ضروری ہیں ۔ جو حواس انسان کے اپنے نفس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ قائم مقام ہیں مخلوق کے اور جو حواس بیرونی دنیا کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ قائم مقام ہیں خالق کے ۔ گویا انسان ایک اور مرکزی نقطہ ہے جس پر خالق کی طرف سے ایک وتر آ کر گرتا ہے اور ایک مخلوق کی طرف سے آ کر گرتا ہے۔ وہ اپنے اندر ا لہی صفات کو بھی پیدا کرتا ہے اور عبودیت کرنے والے وجود جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر دال ہیں ان کو بھی اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلو مخلوق کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور جو شیبی یا تنزلی صفات کہلاتی ہیں وہ وہی ہیں جن سے خدا تعالیٰ ا بنی نوع انسان کے درمیان واسطہ ہوتا ہے اور خدائی صفات ان کے اندر آ کر اپنی قوتوں اور طاقتوں کو ظاہر کرتی ہیں ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ رحم کرتا ہے اور رحم کا وجود چاہتا ہے کہ کوئی اور ہستیاں ہوں جن پر رحم کرے اور جبکہ وہ رحم کرتا ہے تو ضروری ہے کہ رحم کے دو مقتضیات اس کے اندر پائے جائیں ۔ یعنی وہ سننے والا بھی ہوا اور دیکھنے والا بھی ۔ تا اس کے رحم کی مستحق جو مخلوق فریاد