خطبات محمود (جلد 19) — Page 497
خطبات محمود ۴۹۷ سال ۱۹۳۸ ء پڑھاتا ہے تو بچہ کئی دفعہ غلطیاں بھی کرتا ہے مگر وہ اسے سمجھاتا ہے اور بار بار سمجھاتا ہے اور جب سبق کا زیادہ حصہ وہ یاد کر لیتا ہے اور ایک آدھ بات اُسے یاد نہیں رہتی تو اس پر خوش ہوتا ہے ناراض نہیں ہوتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے بچہ کوشش کر رہا ہے کہ مجھے سبق یاد ہو جائے اگر ایک آدھ اس سے غلطی ہو گئی ہے تو اس کی وجہ سے اس کی محنت کو باطل اور رائیگاں نہیں سمجھا جا سکتا ۔ یہی حال جاسکتا۔ خدمت دین کا ہے اگر باوجود نیکی اور تقویٰ کے میدان میں آگے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرنے کے بعض سے غلطیاں ہو جاتی ہیں تو کامل مؤمن تو سمجھتا ہے کیا ہوا جب یہ چوبیس گھنٹے خدمت دین میں لگے رہتے ہیں تو ایک آدھ غلطی اگر ان سے سرزد ہو جاتی ہے تو اس سے کون سی قیامت آجاتی ہے خصوصا اس ہے خصوصا اس صورت میں جب کہ ان کی یہ خواہش بھی ہے کہ اتنی غلطی بھی آئندہ ہم سے سرزد نہ ہو۔ آخر ساری جماعت؟ اعت نمازیں پڑھتی ہے، روزے رکھتی ہے، زکوۃ دیتی ہے، چندے دیتی ہے تبلیغ کرتی ہے، غریبوں کی مدد کرتی ہے ، اتنی نیکیوں کے ہوتے ہوئے اگر کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ سمجھتا ہے یہ ایسی ہی غلطی ہے جیسے بچہ سے تعلیم حاصل کرنے کے زمانہ میں ہو جاتی ہے ۔ ایسے مواقع پر عقلمند اُستاد ہمیشہ اُس کی حوصلہ افزائی کرتا اور کہتا ہے تو خوب ہوشیار نہار ہے اور اگر اس لڑکے کا باپ اُسے مل جائے تو اُسے ؟ جائے تو اُسے بھی وہ یہی کہتا ہے کہ آپ کا لڑکا بڑا ہو ہے یہ نہیں کہتا کہ آپ کا لڑکا بڑا نالائق ہے۔ میں نے اسے سوال دیئے تھے ان میں سے نو اس نے حل کر لئے مگر ایک حل نہ کر سکا ۔ وہ سمجھتا ہے جب اس نے نو سوال حل کر لئے ہیں تو یہی اس کی بڑی ذہانت ہے بقیہ ایک سوال بھی آہستہ آہستہ حل کر لے گا ۔ اسی طرح جو مؤمن ہوتا ہے اُسے تو یہ نظر آتا ہے کہ جماعت نیکی اور تقویٰ اور قربانیوں اور دین کی خدمت میں لمحہ بہ لمحہ بڑھتی چلی جا رہی ہے اور جو کمزور ہیں وہ بھی اپنی کمزوری کو نا پسند کرتے اور اس بات کے خواہشمند ہیں کہ کسی طرح یہ کمزوریاں ان سے دور ہو جائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے سپاہی ہیں جو اس کی راہ میں لڑ رہے ہیں ۔ سپاہی کا کام یہ ہے کہ وہ لڑے اگر کوئی دشمن اُسے قتل کر دیتا ہے تو اس میں سپاہی کا کیا قصور ہے۔ اس کا زیادہ سے زیادہ یہی کام تھا کہ مرتے دم تک دشمن سے لڑائی کرتا۔ سو جب اس نے مرتے دم تک دشمن سے لڑائی رکھی اور آخر اسی لڑائی میں اپنی جان دے دی تو اب وہ جو کی میں اپنی جان دے دی عزت کا مستحق ہو گیا ۔ یہ نہیں ہو گا کہ افسرا سے بُرا بھلا کہیں کہ یہ دشمن کے مقابلہ میں مرکیوں گیا ؟