خطبات محمود (جلد 19) — Page 496
خطبات محمود ۴۹۶ سال ۱۹۳۸ ایمان سرحد پر ہوتا ہے کبھی اُنہیں ایسا دھکا لگتا ہے کہ وہ کفر کی طرف جا پڑتے ہیں اور کبھی ایسا کی دھکا لگتا ہے کہ ایمان کی طرف آجاتے ہیں۔چونکہ اُن کا ایمان صرف ذہنی ایمان رہ جاتا ہے محبت کا ایمان جاتا رہتا ہے اس لئے اُن کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔حالانکہ اصل خوبی محبت کے ایمان میں ہی ہے ذہنی ایمان میں نہیں۔محبت کی مثال میں ہی بیان کیا کرتے ہیں کہ کوئی بادشاہ تھا۔ایک دن وہ اپنے دربار میں ایک نہایت قیمتی ٹوپی لایا اور کہنے لگا آج ہم یہ ٹوپی اُس بچے کو دیں گے جو سب سے زیادہ خوبصورت ہوگا۔یہ کہہ کر وہ ٹوپی اُس نے اپنے ایک حبشی غلام کو دی اور کہا جولڑ کا سب سے زیادہ خوبصورت ہو اُس کے سر پر رکھ دو۔اب ان لڑکوں میں حبشی کا اپنا لڑ کا بھی تھا اور امراء اور وزراء کے بھی لڑکے تھے۔حبشیوں کی شکل یوں بھی خراب ہوتی ہے مگر اُس کا بچہ تو بہت ہی غلیظ اور گندہ تھا، ناک بہ رہا تھا ، آنکھوں میں سید لگی ہوئی تھی اور مکھیاں اس پر بھنبھنا رہی تھیں وہ حبشی کی نہایت بے تکلفی کے ساتھ اس ٹوپی کو اٹھائے سیدھا اپنے لڑکے کی طرف گیا اور اُس کے سر پر ٹوپی رکھ دی۔یہ دیکھ کر سارے دربار میں قہقہہ لگا اور خوب اس سے جنسی کی گئی اور کہا گیا کیا سب بچوں سے زیادہ خوبصورت تجھے اپنا بچہ ہی نظر آیا ہے؟ وہ کہنے لگا۔بادشاہ سلامت ! آپ نے میرے ہاتھ میں ٹوپی دی تھی اور مجھے تو سب سے زیادہ یہی خوبصورت نظر آتا ہے۔تو جہاں محبت ہوتی ہے وہاں عیوب بھی خوبیاں دکھائی دیتے ہیں اور جہاں نفرت ہوتی ہے وہاں عیوب تو الگ کی رہے خوبیاں بھی عیب بن کر نظر آنے لگ جاتی ہیں۔اب قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی انسان بے عیب نہیں حتی کہ بشریت کی کمزوریاں انبیاء میں بھی پائی جاتی ہیں۔پس جب کوئی بھی بے عیب نہیں تو کیا یہ جائز ہوگا کہ سوائے خدا کے ہر ایک کی عیب چینی اور نکتہ چینی کی جائے۔اگر نہیں تو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں پر نکتہ چینی کرنا بھی کسی صورت میں جائز نہیں ہو سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ جب کسی کے دل میں محبت والا ایمان نہیں ہوگا تو اسے خوبیاں بھی عیب نظر آئیں گے لیکن جب کسی کا ایمان کامل ہوگا تو معمولی عیوب کو دیکھ کر سمجھے گا کہ یہ لوگ قابل تحسین ہیں نہ کہ لائق ملامت کیونکہ یہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان عیوب سے پاک ہو جائیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک استاد بچے کو کی