خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 49

خطبات محمود ۴۹ سال ۱۹۳۸ء وہ ایک اور سے ملتا ہے تو وہ بات شروع کرنے سے بھی پہلے کہتا ہے کہ تم میری خاطر یہ جھوٹ بول دو اور یہ کہو اور یہ گواہی دو۔تو اس پر لازماً یہی اثر ہوگا کہ جس بات پر یہ خود عملی طور پر قائم نہیں ہیں اس کے صحیح ہونے کا میں کیسے یقین کر لوں اور وہ خیال کرتا ہے کہ جو کہتا ہے ہر حال میں سچ بولنا چاہئے اس کی بات کے صحیح ہونے کا کیا ثبوت ہے اور میں اس کی بات کو مان کرج کیوں نقصان اٹھاؤں جبکہ دوسرے لوگ اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں اس لئے اس کی بات کی کا بھی جس نے ہر حال میں اسے سچ بولنے کی نصیحت کی اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔دیکھ لو عقائد کے بارہ میں جن باتوں پر ہماری جماعت مضبوطی سے قائم ہے ان میں ہمارے مقابل پر دوسرے لوگ بالکل گر گئے ہیں لیکن جن باتوں میں ہمارے علماء نے اختلاف کیا ہے وہ غیروں میں پھیل نہیں سکیں۔انہوں نے تو یہ سمجھا کہ ہم نے جدت پیدا کی نئی بات نکالی ہے۔مگر یہ نہیں سوچا کہ اس جدت سے انہوں نے احمدیت کی شوکت کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کی اس جدت کی وجہ سے وہ بات غیروں میں پھیل نہیں سکی۔لیکن جن باتوں میں وہ متفق رہے ہیں وہ خوب پھیلی ہیں اور ایسی پھیلی ہیں کہ دشمنوں نے بھی ان کی مضبوطی کو تسلیم کر لیا ہے۔اور گو وہ مخالفین کے ڈر کی وجہ سے انہیں عَلَى الْإِغلان نہ مانیں مگر اپنی پرائیویٹ مجالس میں وہ اکثر ان کو تسلیم کر لیتے ہیں۔مجھے ایک دوست نے جو اب مخلص احمدی ہیں، جب وہ ابھی غیر احمدی تھے سنایا تھا کہ ایک دفعہ وہ صاحبزادہ سر عبدالقیوم صاحب کے پاس جو صوبہ سرحد میں پہلے وزیر اعظم تھے اور حال میں فوت ہوئے ہیں بیٹھے تھے۔تو سر موصوف نے کہا کہ مرزا صاحب پنے آپ کو نبی کہتے ہیں اس لئے ان کی بات تسلیم نہیں کی جاسکتی۔اگر وہ اپنے آپ کو مجدد منوائیں تو ماننے کو تیار ہیں۔اس دوست نے جو خود بھی ایک بڑے عہدہ پر ہیں اور انجینئر ہیں سنایا کہ میں نے ان سے کہا کہ واہ صاحبزادہ صاحب آپ یہ بات کیا کرتے ہیں۔میں تو کی مرزا صاحب کو اگر نہیں مانتا تو اس لئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص آہی نہیں سکتا۔قرآن کریم کے بعد ہمیں کسی اور الہام کی ضرورت نہیں لیکن اگر یہ مان لیا تج جائے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی شخص آسکتا ہے تو پھر یہ اعتراض کیسا بے معنی ہے کہ وہ نبی ہے یا کیا ہے۔خدا تعالیٰ جس کو بھیجے گا اس کا عہدہ وہ مقرر کرے گا یا ہم کریں گے؟ جب انہوں