خطبات محمود (جلد 19) — Page 487
خطبات محمود ۴۸۷ سال ۱۹۳۸ ء کر دیا ہے پہلے میرا اچھا گزارہ تھا مگر احمدی ہو جانے کی وجہ سے کا روبار کو سخت نقصان پہنچا ہے اور میں بھوکا مر رہا ہوں حالانکہ اُس کا گزارہ پہلے بھی ویسا ہی ہوتا ہے اور پہلے بھی وہ بھو کا ہی مر رہا ہوتا ہے مگر ہمیں دھوکا دینے کے لئے کہہ دیتا ہے کہ پہلے میرا بڑا اچھا گزارہ تھا مگر اب قبول احمدیت کی وجہ سے بھو کا مرنے لگا ہوں میرے لئے کسی نوکری کا انتظام کر دیں ۔ ہم اُسے کا کر دیں ۔ لکھتے ہیں کہ ہمارے ذہن میں تو اس وقت کوئی جگہ نہیں اگر کوئی جگہ نکلی تو آپ کا خیال رکھا جائے گا ۔ اس پر وہ لکھتا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ فلاں احمدی اپنے ہاں ایک نوکر رکھنا چاہتا ہے آپ سے سفارشی چٹھی لکھ دیں اور میں آپ کا بڑا ممنون ہوں گا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اس کے دھوکا میں آجاتے اور اس احمدی کے پاس اس کی سفارش کر دیتے ہیں اور وہ اسے ملازم رکھ لیتا ہے حالانکہ دل میں وہ پکا غیر احمدی ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک طبقہ ایسا تھا جو قبیلے کے ڈر کی وجہ سے یا کسی لالچ کی وجہ سے اسلام قبول کر لیتا ۔ مثلاً یہی لالچ ہوا کہ سلام ترقی کر رہا ہے اگر ہم اس مذہب میں شامل ہو گئے تو ہمیں عزت مل جائے گی ۔ یا یہ دیکھا کہ اپنے خاندان کا کوئی امیر آدمی جو پہلے ان سے حُسنِ سلوک کیا کرتا تھا مسلمان ہو گیا ہے تو وہ بھی مسلمان ہو گئے تا وہ حُسنِ سلوک کو بند نہ کر دے ۔ تو ڈر اور لالچ دونوں کی وجہ سے لوگ منافق بن جاتے ہیں لیکن یہ ایسا طبقہ ہے جس کے اندر ایمان ہوتا ہی نہیں ۔ وہ داخل ہوتا ہے خوف یا لالچ کی وجہ سے ورنہ اس کے دل میں کفر ہوتا ہے وہ کفر کی حالت میں پیدا ہوتا کفر کی حالت میں ہی اسلام میں داخل ہوتا اور کفر کی حالت میں ہی مر جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اسی طبقہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ 2 کہ اے ہمارے رسول ! کچھ لوگ تیرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم خدا اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور خدا کا شکر ہے کہ ہمیں ایمان نصیب ہو گیا اور سمجھ آگئی کہ سچا راستہ کونسا ہے۔ فرماتا ہے وہ دعوے تو یہ کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے وہ صرف لالچ یا خوف کی وجہ سے آگئے ہیں اس کے علاوہ ان کے آنے کی اور کوئی غرض نہیں ۔ تو یہ منافق طبقہ آتا ہی اسی وجہ سے ہے کہ یا اسے کسی چیز کی لالچ ہوتی ہے یا کسی چیز کا خوف ہوتا ہے۔ اگر چندے دے گا تو ڈر سے یا