خطبات محمود (جلد 19) — Page 482
خطبات محمود ۴۸۲ سال ۱۹۳۸ ء میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے کہ انسانی طبیعت ان امور سے قطع نظر کرتے ہوئے جو انسانوں سے ہی مخصوص ہیں اس معاملہ میں بعض جانوروں سے مشابہت رکھتی ہے ۔ آجکل تو یہاں کتے بہت کم نظر آتے ہیں ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بڑی کثرت سے گتے ہوتے تھے اور جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ یہ حکم دیا کرتے تھے کہ آوارہ گتے مار دیئے جائیں ۔ نے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ہر چھٹے ماہ یہ حکم دیا کرتے تھے کہ آوارہ کتے مار دیئے جائیں مگر اب ہمارے گھروں میں بہت کم گتا دکھائی دیتا ہے۔ میں نے بچپن میں گتوں کو کئی دفعہ آپس میں لڑتے دیکھا ہے، اسی طرح بلیوں کو دیکھا ہے، جب یہ آپس میں لڑتے ہیں تو اپنی دموں کو عجیب طرح حرکت دیتے اور اُنہیں اوپر اٹھا لیتے ہیں ۔ آنکھیں ان کی باہر نکلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تھوڑی دیر بھوں بھوں یا غرغر کرتے رہتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد ایک گتا دم دبا کر ایک طرف کو چل دیتا ہے۔ یا بلی دوسری کے مقابلہ سے ہٹ کر ایک طرف کو چل دیتی ہے۔ جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اُس نے اپنی ہار تسلیم کر لی ۔ اب نہ اُن میں لڑائی ہوتی ہے نہ فساد ہوتا ہے۔ نہ ایک دوسرے کو زخمی کرتے ہیں محض آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تھوڑی دیر بھوں بھوں کرنے کے بعد ایک ان میں سے مقابلہ سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح بلیاں کرتی ہیں ۔ بلیاں حقیقی طور پر بہت کم لڑتی ہیں ۔ اکثر وہ پیار سے ایک دوسری سے لڑتی ہیں ۔ دشمنی کی لڑائی بلیوں میں بہت کم ہوتی ہے اور گتوں میں بھی بہت کم ہوتی ہے ۔ جب وہ پیار سے لڑتے ہیں تو بظاہر ایک دوسرے کو گراتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے کو پیار بھی کرتے جاتے ہیں اور چاٹتے جاتے ہیں مگر جب حقیقی طور پر کوئی لڑنے کا ارادہ کرے تو بہت کم لڑائی ہوتی ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک زبردست گتا اچانک کمزور کتے پر پیچھے سے حملہ کر کے اُسے زخمی کر دے مگر مقابل میں ٹک کر ان میں لڑائی بہت شاذ ہوتی ہے اوہ وہ آ بہت شاذ ہوتی ہے اوہ وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں تاڑ جاتے ہیں کہ کون کمزور ہے اور کون طاقت ور ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کمزور دم دبا کر ایک طرف کو چل دیتا ہے۔ یہی حالت انسان کی ہے مگر انسان کی عقلِ طبعی بہت کمزور ہو چکی ہے۔ اس کا علم ظاہری زیادہ ہے مگر جس طبعی بہت کمزور ہوگئی ہے ۔ اس لئے جن چیزوں کو جانور پہچان لیتا ہے