خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 473

خطبات محمود ۴۷۳ سال ۱۹۳۸ بہت صدمہ ہوا۔وہ بہت رور ہے تھے کہ ایک چوہڑا ادھر سے گزرا۔پوچھنے لگا کہ کیا ہوا لوگ اتنا رور ہے ہیں؟ کسی نے بتایا کہ مہاراجہ کا انتقال ہو گیا ہے۔سن کر کہنے لگا کہ میں نے سمجھا خبر نہیں کیا ہو گیا ہے کہ لوگ ایسے بے تاب ہیں۔جب باپو یعنی میرے باپ جیسے لوگ مر گئے تو مہا راجہ رنجیت سنگھ بے چارہ کس حساب میں تھا کہ وہ نہ مرتا۔اس طرح ان کے نزدیک بھی سپاہی یا تھا نہ دار کا سلام بڑی چیز ہے۔گھر پہنچتے ہیں تو پیر زمین پر نہیں لگتے کہ سرکاری افسر نے ہمیں سلام کر دیا۔حالانکہ سمجھتے نہیں کہ اس نے تمہارے چہرہ پر نفاق دیکھا اور سلام کر دیا کہ اس سے کام لیں گے۔اس طرح مسلمانوں کی جب روم والوں سے لڑائی شروع ہوئی تو منافقوں نے کہا کہ اب گئے۔چنانچہ منافقوں نے ابو عامر راہب کی مدد سے پھر آپس کی تنظیم کی اور ایک بستی الگ بسائی اور اس میں علیحدہ مسجد بنائی اور علیحدہ گاؤں بنالیا۔ابو عامر راہب بھیس بدل کر آیا کی اور صوفی بن کر مسجد میں رہنے لگا۔ان لوگوں نے یہ تجویز میں کرنا شروع کر دیں کہ کسی طرح رومی کی حکومت سے مسلمانوں کی لڑائی کرائی جائے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر جائیں تو مدینہ میں بغاوت کر دی جائے اس لئے انہوں نے مشہور کرنا شروع کیا کہ رومیوں کا لشکر مدینہ پر حملہ کے لئے آ رہا ہے۔اس خبر سے مسلمانوں میں شور پیدا ہوا کیونکہ ان کے لئے یہ ایسی ہی خبر تھی جیسے کوئی کہے کہ ریاست کپورتھلہ یا مالیر کوٹلہ پر انگریز فوج کشی کر رہے ہیں۔گجادہ کی سلطنت جو یورپ سے شروع ہو کر ایران تک آتی تھی اور مصر بھی اس کے ماتحت تھا اور کئی ممالک اس کے باجگزار تھے اور جو بیک وقت چار پانچ لاکھ کا لشکر میدان میں لا سکتی تھی بلکہ بعض جنگوں میں تو رومی آٹھ دس لاکھ آدمی بھی لائے ہیں اور کجا دہ لوگ جن کا سارا لشکر ہی دس پندرہ ہزار تھا۔چنانچہ ان لوگوں نے مشہور کر دیا کہ رومی حملہ کر رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ بہتر ہوگا ہم باہر جا کر مقابلہ کریں۔چنانچہ آپ مسلمانوں کو ساتھ لے کر چل پڑے۔رستہ میں جب پوچھنا شروع کیا کہ یہ خبر کہاں سے نکلی ہے تو اس کی کی حقیقت کھلی۔کسی نے بھی یہ اقرار نہ کیا کہ ہم نے لشکر کو آتے دیکھا ہے۔آپ کو شبہ ہوا کہ یہ منافقوں کی شرارت ہے اور آپ تھوڑی دور سے ہی واپس آگئے۔منافق بہانوں سے پہلے ہی ساتھ نہ گئے تھے ان کو خیال تھا کہ اس خبر کے زیر اثر مسلمان جاتے ہی رومی علاقہ پر حملہ کر دیں گے