خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 460

خطبات محمود ۴۶۰ سال ۱۹۳۸ء بھی ہو سکتے ہیں۔مگر جب پہلے روز میں نے سنتے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ کل بھی کسی کو ساتھ نہیں لے جائیں گے تو قدرتاً دوسرے روز کی بات طبیعت پر زیادہ گراں گزری۔اس وجہ سے میرے مشورہ کے ساتھ ان کے متعلق ناظر صاحب نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کچھ عرصہ کے لئے جماعت ان کا مقاطعہ کرے یہ عرصہ پہلے پندرہ دن کا تھا مگر بعد میں سات دن کر دیا گیا اس لئے کہ ان کا بعد کا جور و یہ تھا وہ اچھا تھا۔میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میعاد میں یہ کی ان سفارشوں کی وجہ سے نہ تھی جو ان کے لئے کی گئیں کیونکہ ایسے موقع پر سفارش کرنا ملزم کو کوئی فائدہ پہنچانے کے بجائے خود سفارش کرنے والے کی منافقت کی علامت ہوتی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ سفارش کرنے والوں میں میرے رشتہ دار بھی تھے اور دوسرے لوگ بھی اور انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ ایسی سفارش اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔تم ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کر سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یا صحابہ کے وقت میں کسی کو سزا دی گئی ہو اور اس مسئلہ کے واضح ہو جانے کے بعد اس کی سفارش آئی ہو۔پھر میں نہیں سمجھتا کہ تم ان مسائل کو کیوں یاد نہیں رکھتے۔کیا اس وجہ سے کہ کوئی شخص میرا رشتہ دار ہے یا پریذیڈنٹ ہے، وہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ اسے شریعت کو توڑنے کا حق ہے۔میں یہ امر بھی صاف طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا ان لوگوں کا فعل منافقانہ تھا ویسا ہی سفارش کرنے والوں کا ہے۔مجھے کسی کا مطلقا ڈر نہیں۔خواہ کوئی میرا رشتہ دار ہو یا جماعت میں سے بڑا آدمی ہو۔جو بھی خلاف شریعت فعل کا مرتکب ہوگا اسے یہ بات سننی پڑے گی۔مجھے افسوس ہے کہ میرے ایک رشتہ دار نے یہاں تک کہا کہ میں چوہدری حاکم دین کے متعلق مسجد اقصیٰ میں قسم کھانے کو تیار ہوں حالانکہ قرآن کریم نے منافقوں کی ایک یہ علامت بھی قرار دی ہے کہ وہ بلا شرعی حق یا ضرورت کے قسمیں کھانے لگ جاتے ہیں کے اور جو شخص ایسی بات کے متعلق قسم کھانے کو تیار ہو جاتا ہے جس کی صداقت کا شرعی ثبوت اس کے پاس نہیں ، اس کا فعل یقیناً منافقانہ ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کی قسم کو اتنا کمزور سمجھتا ہے کہ ذاتی علم کے نہ ہونے کے باوجود اس کے لئے تیار ہو جاتا ہے اس کے اندر ضرور کمزوری ہے۔میں نے ان میں سے کسی کو بھی منافق قرار نہیں دیا۔ان لوگوں کو بھی نہیں جو علیحدہ جا کر ملے تھے اور سفارش کرنے والوں کو بھی نہیں اور جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے منافق ہونا اور منافقت کی رگ کا ہونا