خطبات محمود (جلد 19) — Page 46
خطبات محمود ۴۶ سال ۱۹۳۸ قلوب کی فتح کیلئے اسلام کی عملی تعلیم کی پوری پابندی لازم ہے فرموده ۲۸ /جنوری ۱۹۳۸ء) تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - قوموں کی ترقی کیلئے قومی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔کوئی ایک یا دو آدمی مل کر یہ کام نہیں کر سکتے۔کیونکہ افراد کے اخلاق کی حفاظت قومی اخلاق سے ہوتی ہے۔اگر قومی طور اخلاق درست نہ ہوں تو صرف چند لوگ ہی جو علیحدگی اور خلوت میں زندگیاں بسر کریں اپنے اخلاق کو بچا سکتے ہیں دوسرے نہیں اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب قومی طور پر اخلاق میں بگاڑ پیدا ہو تو شہروں اور بستیوں کو چھوڑ کر پہاڑوں اور جنگلوں میں چلے کی جاؤ اور وہیں زندگی بسر کر ویلے اس کے معنے یہی ہیں کہ جب قومی اخلاق بگڑ جائیں تو افراد کے اخلاق درست نہیں رہ سکتے۔اول تو ارد گرد کے حالات کے اثر کی وجہ سے انسان کی طبیعت میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور اگر انسان اپنے اخلاق کو بیرونی اثرات سے بچا بھی لے تو اس کے بیوی بچوں کے اخلاق تو بوجہ کمی علم یا کم عمری کی وجہ سے ضرور ہی خراب ہو جاتے ہیں اور ایسے حالات میں چونکہ خطرہ ہوتا ہے کہ نیکی کا بیج ہی ختم نہ ہو جائے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بستیوں اور شہروں کو چھوڑ کر کسی علیحدہ جگہ میں بیٹھ جاؤ ، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں حالانکہ عام حالات میں آپ نے لوگوں سے ملنے جلنے اور باہم تعلقات رکھنے کی تاکید فرمائی ہے مگر قومی اخلاق میں بگاڑ پیدا ہونے کی صورت میں خلوت کی زندگی بسر کرنے کی تلقین فرمائی۔