خطبات محمود (جلد 19) — Page 450
خطبات محمود ۴۵۰ سال ۱۹۳۸ء اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کے جلسوں کا دن بہت قریب آ رہا ہے۔میں نے اعلان کیا تھا کہ تحریک جدید کے سیکرٹریوں کو چاہئے کہ کوشش کریں کہ اُس دن سے پہلے سارا یا کی بہت سا حصہ موعودہ چندوں کا ادا ہو جائے۔اس اعلان کے بعد پہلے مہینہ میں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوشش کی گئی ہے کیونکہ اس مہینہ میں وصولی کی رفتار پہلے کی نسبت زیادہ رہی ہے مگر بعد میں جیسا کہ ہمارے ملک میں عام طور پر ہوتا ہے کہ رفتار پھر سُست ہوگئی ہے۔ہندوستان میں یہ مرض عام ہے کہ کچھ دنوں تک کام کرنے کے بعد اسے چھوڑ دیا جاتا ہے اور یہی عادت دراصل ہندوستان کی تباہی کا موجب ہے۔یہاں انجمنیں بنتی ہیں سال دو سال کام کرتی اور پھر ختم ہو جاتی ہیں حالانکہ یورپ میں بعض انجمنیں سو سو اور دو دوسو سال سے کام کر رہی ہیں اور ہمیشہ مضبوط تر ہوتی رہتی ہیں مگر ہندوستان میں ایسا نہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ملیریا کا اثر ہے اس کی سے طاقتِ عمل میں کمی واقع ہو جاتی ہے ، بعض اسے گرمی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ تنزل کا اثر ہے۔جب قو میں گرا کرتی ہیں تو پھر یہ سب خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اسی کی ملیر یا اور گرمی کے باوجود ہندوستان نے ترقی بھی کی ہے۔ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب انگلستان کی عورتوں کے پہنے کے کپڑے ہندوستان میں بنتے تھے اور اہل انگلستان کی بیٹھکوں کے لئے زیبائش کی چیزیں بھی یا تو ہندوستان سے جاتی تھیں یا شام سے۔گویا اُس وقت ہندوستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرتا تھا بلکہ دوسرے ممالک کی بھی۔اُس وقت بھی یہاں گرمی اسی طرح پڑتی تھی اور ملیر یا پیدا کرنے والے مچھر موجود تھے۔یہ سب کچھ تھا مگر اس کے ساتھ ہمت بھی تھی۔اب بھی وہ چیزیں ہیں مگر ہمت نہیں۔اس کے نہ ہونے سے اب ہندوستانی کچھ روز کام کرتے ہیں اور پھر سُست ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے کوئی بڑا مقصود نہیں ہوتا۔لیکن ہماری جماعت کو تو غور کرنا چاہئے کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ نے کتنا بڑا مقصود پیدا کیا ہے۔زمین و آسمان میں تغیر پیدا کر دینا کوئی معمولی بات نہیں۔دنیا میں دس ہیں یا سو پچاس آدمیوں سے مل کر بھی کوئی شخص بڑا بنتا ہے تو اس کی بہت قدر کی جاتی ہے۔کسی کو حکومت کی کی طرف سے خانصاحب کا خطاب مل جائے تو وہ اس کے بغیر اپنا نام نہیں لکھتا۔میں نے دیکھا ہے کہ لوگ آپ اپنے دستخط کرتے ہیں تو نیچے خانصاحب لکھ دیتے ہیں اور اگر کسی کو خان بہادر