خطبات محمود (جلد 19) — Page 443
خطبات محمود ۴۴۳ سال ۱۹۳۸ چنا نچہ جذباتی قضاء نے اُس وقت کئی ضروری امور کو دیکھا اس نے دیکھا کہ: (۱) میاں فخر الدین اور ان کے ساتھیوں نے سخت اشتعال انگیزی سے کام لیا تھا اس حد تک کہ کمزور انسان کے لئے برداشت نا ممکن تھی اور بعض دفعہ تو مضبوط کے لئے بھی ایسے حالات میں برداشت ناممکن ہو جاتی ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اسلام میں بڑے بلند پایہ بزرگ ہوئے ہیں وہ سب صحابہ سے بڑھ کرشان رکھتے ہیں مگر دیکھو کہ ایک موقع ایسا آیا کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی اشتعال میں آگئے۔ایک دفعہ ایک یہودی نے بازار میں چڑانے کی کے لئے کہہ دیا کہ مجھے اُس خدا کی قسم ہے کہ جس نے موسیٰ کو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر فضیلت دی ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غصہ میں آکر اس یہودی کو تھپڑ مار دیا حالانکہ اس نے کوئی گالی نہیں دی تھی۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر آیا آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر ناراض ہوئے مگر انہیں کوئی سزا نہ دی کیونکہ سمجھا کہ ضرر زیادہ نہیں اور اشتعال نا قابل برداشت تھا۔اب حضرت ابو بکر کمزور مومن نہیں تھے مگر چونکہ انہوں نے جو فقرہ سنا گووہ گالیوں والا نہیں تھا مگر ان کے لئے ناقابل برداشت تھا اس لئے انہوں نے تھپڑ مار دیا۔پس ان حالات کو کونسی جذباتی قضاء نظر انداز کر سکتی ہے۔(۲) دوسرے ان کا مُجرم مذہب کے خلاف نہ تھا بلکہ مذہبی محبت کی وجہ سے تھا۔مذہب کے خلاف نہ ہونے سے میری یہ مراد نہیں کہ وہ مذہبی تعلیم کے خلاف نہیں تھا بلکہ یہ مراد ہے کہ وہ مذہب کو نقصان پہنچانے والا نہیں تھا۔یا خدا اور اس کے رسول پر حملہ نہیں تھا ) اپنی بڑھیا اور معذور ماں کی محبت کو نظر انداز کرتے ہوئے ، اپنی جوانی کو قربان کرتے ہوئے کسی دنیوی غرض سے نہیں صرف دینی جوش کے ماتحت جو اپنی جان قربان کرتا ہے اگر وہ مجرم ہے تو ہم اس کی کے فعل کو برا کہہ سکتے ہیں اور کہیں گے اسے جرم کی سزا پانے کے لئے تیار کریں گے، ایسے افعال کی کے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرینگے لیکن ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ کرنے والے نے جو کچھ کیا غلط کیا یا صحیح کیا۔صرف دین کی محبت کے لئے کیا ، اس کو ورغلایا گیا ، اس کی ماں کو ورغلایا گیا، چنانچہ اس کو ورغلایا جانا اس کے بیانات سے ثابت ہے اور اس کی ماں کو ورغلایا جانا اس طرح ثابت ہے کہ وہ منٹگمری اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے گئی جب وہاں سے واپس آئی تو کی