خطبات محمود (جلد 19) — Page 442
خطبات محمود ۴۴۲ سال ۱۹۳۸ء جو قانون کا حق تھا وہ بھی ادا کر دیا اور جو اخلاقی لحاظ سے سچ بولنے کے متعلق حق تھا وہ بھی ہم نے ادا کر دیا۔گویا شرعی ، قانونی اور انسانی تینوں حقوق ہم نے ادا کر دیئے۔میاں عزیز احمد صاحب نے ایک جان لی۔قانون نے اس کے بدلے میں ان کی جان لے لی۔انہوں نے جان بھی دی اور اپنی غلطی کا اقرار بھی کیا چنانچہ انہوں نے مجھے متواتر خطوط لکھے کہ سلسلہ کی ی تعلیم میرے ذہن میں اس وقت نہیں تھی اور مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسی حالت میں بھی انسان کو صبر سے کام لینا تم چاہئے چونکہ وہ ناتعلیم یافتہ آدمی تھے اس لئے سمجھا جا سکتا ہے کہ واقع میں انہیں سلسلہ کی تعلیم کا اس حد تک علم نہیں ہو گا جس حد تک علم انسان کی صحیح راہنمائی کرتا ہے۔پس انہوں نے مجھے بار بار لکھا کہ میرے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ ایسے شدید اشتعال کے موقع پر بھی انسان کو ضبط سے کام لینا چاہئے اور چونکہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اس لئے میں تو بہ کرتا ہوں اور آپ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے قصور کو معاف کرے اور انہوں نے مجھے ایک بار بلکہ بار بار ایسے خط لکھے۔پس جب قانونی قضاء کا فیصلہ ہو چکا اور جذباتی قضاء کا موقع کی آیا تو اس نے دوسرے ضروری امور کو بھی دیکھا۔قانونی قضاء کا منشا صرف اتنا تھا کہ وہ ہمارے آدمی کی جان لے لے ہم نے کہا بہت اچھا جان لے لو۔پس ہم نے قانون کے منشا کو پورا کر کے قانون کا حق اسے ادا کر دیا۔پھر شریعت نے کہا کہ میرا حق بھی مجھے ادا کر دو اور کہو کہ اس نے بہت بُر افعل کیا ہے۔ہم نے کہا بہت اچھا آپ بھی اپنا حق لے لیں چنانچہ ہم نے عَلَى الْإِغلان کہا کہ میاں عزیز احمد صاحب نے خلاف شریعت فعل کیا ہے اور اخباروں میں اس پر مضامین لکھے۔پھر انسانیت ہمارے سامنے آئی اور کہا کہ اگر ایسے افعال چھپ کر کئے جائیں تو خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں پس تم اس سے اقرار کراؤ کہ واقع میں میں نے قتل کیا ہے اور اس طرح انسانی حق ادا کروتا دوسروں کو عبرت ہو اور وہ ایسے افعال کا ارتکاب نہ کریں ہم نے کہا بہت اچھا چنانچہ ہم نے ان سے اقرار کروایا اور کہا کہ تم جو کچھ واقعہ ہوا ہے، سچ سچ کہہ دو۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔پس ہم نے شریعت کی طرف سے بھی برات حاصل کر لی ، ہم نے قانون کی طرف سے بھی براءت حاصل کر لی اور ہم نے انسانیت کی طرف سے بھی براءت حاصل کر لی۔اس کے بعد جذبات کا سوال آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارا بھی کوئی حق ہے یا نہیں۔