خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 425

خطبات محمود ۴۲۵ سال ۱۹۳۸ء پہلے میں اعتراض کے اس حصے کو لیتا ہوں جو میری ذات سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی یہ کہ میں جنازہ میں شامل کیوں نہیں ہوا سو یا د رکھنا چاہئے کہ میں اس لئے جنازہ میں شامل نہیں ہوا کہ بوجہ امام جماعت ہونے کے اگر میں جنازے میں شامل ہوتا تو خطرہ تھا کہ بعض نوجوان یہ سمجھ لیتے کہ چلو خلیفہ جنازہ تو پڑھا دیتا ہے اور اگر ایسا فعل کر لیا تو ان کا جنازہ تو نصیب ہو ہی جائے گا۔پس آئندہ فتنہ کا سد باب کرنے کے لئے میں نے ایسا کیا اور ان لوگوں کی خیر خواہی کے لئے کی کیا جو کوئی ہفتہ نہیں جاتا کہ نا قابل برداشت گالیاں نہیں دیتے۔میں اس وقت ان لوگوں کا ذکر کی نہیں کرتا جو ہمارے مخالف ہیں اور احمدیت میں شامل نہیں ہیں میں ان لوگوں کا بھی ذکر نہیں کرتا کی جو گو جماعت احمدیہ میں شامل ہیں لیکن شروع سے ہی خلافت کے متعلق ہم سے اختلاف رکھتے ہیں ، میں ان لوگوں کا بھی ذکر نہیں کرتا جو جماعت سے قریب زمانہ میں علیحدہ ہوئے ہیں اور گو وہ خلافت کے قائل ہیں مگر اس رنگ میں نہیں جس رنگ میں ہم قائل ہیں ، میں ان لوگوں کا بھی ذکر نہیں کرتا جن کے مونہوں پر خلافت کا عقیدہ ہے مگر ان کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا ہے۔اور گوا ایسے لوگ تھوڑے ہی ہیں مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے لوگ موجود ہیں اور ان کے دلوں میں احمدیت اور خلافت کے متعلق ویسا ہی بغض ہے جیسے مخر جین یا پیغامیوں کے دلوں میں ہے بلکہ یہ منافق لوگ ان سے بھی زیادہ بغض اور عداوت اپنے اندر رکھتے ہیں کیونکہ وہ تو گالیاں دے کر اپنے غصہ کو ٹھنڈا کر لیتے ہیں مگر ان کو چاپلوسیاں بھی کرنی پڑتی ہیں ان کو خوشامد میں بھی کرنی پڑتی ہیں۔ان کو نتیں بھی کرنی پڑتی ہیں اور ان کو اپنی زبان سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرنا پڑتا ہے۔مگر جس وقت ان کی زبان تعریف کر رہی ہوتی ہے ان کا دل کڑھ رہا اور خون ہورہا ہوتا ہے اور ان کا نفس انہیں لعنتیں ڈال رہا ہوتا ہے اور کہہ رہا ہوتا ہے کہ اے کمبخت اور لعین ! تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اپنے عقیدہ کے خلاف کسی دنیوی مفاد یا چند پیسوں کے لئے ان کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے، پس ان کا غصہ اور بھی بڑھ جاتا ہے اور ان کا بغض اور بھی ترقی کر جاتا ہے۔غرض میں ان لوگوں میں سے کسی کا بھی ذکر نہیں کر رہا بلکہ میں ان لوگوں کا ذکر کر رہا تچ ہوں جنہیں تم ایک آدمی کہہ لو تم دو آدمی کہہ لو تم سو آدمی کہہ لو تم ہزار آدمی کہہ لو تم دس ہزار آدمی کہ لو تم لاکھ آدمی کہہ لو مگر بہر حال تمہیں ماننا پڑے گا کہ ایک ایسی جماعت ضرور ہے جو