خطبات محمود (جلد 19) — Page 408
خطبات محمود ۴۰۸ سال ۱۹۳۸ء اس لئے اس اقرار کے ذریعہ دفاع کا صرف ایک ہی دروازہ جو ہمارے لئے کھلا تھا وہ ہم نے کی اپنے اوپر بند کر لیا۔جس کے نتیجہ میں مسل پر کئی ایسے امور آ گئے جو سلسلہ پر ایک حملہ تھے اور ہمیں دفاع کا کوئی موقع نہ ملا۔غرض حکومت کا یہ مطالبہ کہ قومی طور پر جماعت احمد یہ اس مقدمہ میں حصہ نہ لے یقینا ہمارے لئے نقصان دہ تھا کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایسے مقدمہ میں دوہی فریق ہوتے ہیں یا حکومت یا ملزم۔دوسری کسی پارٹی کو خواہ اس کے حقوق پر کس قدر ہی اثر کی کیوں نہ پڑ رہا ہو براہ راست دخل دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔فریق مخالف تو حکومت کے ذریعہ سے اپنا کام کر سکتا تھا کیونکہ وہ حکومت کی طرح مدعی تھا اور اس نے ایسا کیا بھی۔چنانچہ پراسیکیوشن نے مقدمہ میں زور لگایا کہ یہ سازش کا نتیجہ ہے۔سلسلہ اگر ایسے حملوں کا دفاع کر سکتا تھا تو محض اسی طور پر کہ وہ مدعا علیہ کی امداد کرتا اور اس کے دفاع کے ساتھ ملا کر اپنا دفاع کرتا لیکن مذکورہ بالا وعدہ کی وجہ سے یہ راستہ سلسلہ کے لئے بند ہو چکا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے کئی امور جن کا سلسلہ پر بُرا اثر پڑتا تھا مسل پر آگئے لیکن ان کے دفاع کا سلسلہ کو کوئی موقع نہ ملا۔جھوٹ پھیلتا گیا لیکن اس جھوٹ کا ازالہ نہ ہوسکا۔حقیقت یہ ہے کہ جب جھوٹ اور فریب سے کام لے کر ایک منفر د فعل کو سازش قرار دیا جائے تو قا نو نا اور شرعاً ملزم کی مدد کرنے والے کبھی بھی مجرم نہیں کہلا سکتے کیونکہ گوملزم مجرم ہومگر جس پر سازش کا الزام لگایا گیا ہے اس کے پاس سوائے اس کے اور کون سا ذریعہ ہے کہ وہ کی ملزم کی جائز حد تک امداد کرے اور اس کے دفاع کے ساتھ اپنا دفاع ملا کر مسل پر وہ باتیں لے آئے جن کا لا نا ضروری ہے۔اس صورت میں وہ مجرم نہیں کہلا سکتے کیونکہ انہیں اس کام پر مجبور کرنے والے سازش کا الزام لگانے والے ہوتے ہیں۔اگر دوسرا فریق ایک بے گناہ جماعت کو موردِ الزام نہ بنائے تو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ اس میں دخل دے اور اگر مدعی فریق ایک کی بے گناہ جماعت کو موردِ الزام بنا تا ہے تو اس فریق کے پاس قانونی طور پر سوائے اس کے اور کونسا ذریعہ ہے کہ وہ ملزم کی مدد کرے اور اس کی مدد کرتے ہوئے اپنا دفاع پیش کر دے پس یا تو ہندوستان میں قانون کی اصلاح کی جائے اور ایسے لوگوں کے ذکر کو قطعی طور پر روک دیا جائے جو فریق مقدمہ نہیں ہوتے۔یا پھر انہیں فریق مقدمہ کے طور پر پیش ہونے کی