خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 408

خطبات محمود لد ٧٠ سال ۱۹۳۸ ء اس لئے اس اقرار کے ذریعہ دفاع کا صرف ایک ہی دروازہ جو ہمارے لئے کھلا تھا وہ ہم نے اپنے اوپر بند کر لیا۔ جس کے نتیجہ میں مسل پر کئی ایسے امور آ گئے جو سلسلہ پر ایک حملہ تھے اور ہمیں دفاع کا کوئی موقع ۔ موقع نہ ملا ۔ غرض حکومت کا یہ مطالبہ کہ قومی طور پر جماعت احمد یہ اس مقدمہ میں حصہ نہ لے۔ یقینا ہمارے لئے نقصان دہ تھا کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایسے مقدمہ میں دو ہی فریق ہوتے ہیں یا حکومت یا ملزم ۔ دوسری کسی پارٹی کو خواہ اس کے حقوق پر کس قدر ہی اثر کیوں نہ پڑ رہا ہو براہ راست دخل دینے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ فریق مخالف تو حکومت کے ذریعہ سے اپنا کام کر سکتا تھا کیونکہ وہ حکومت کی طرح مدعی تھا اور اس نے ایسا کیا بھی ۔ چنانچہ پراسیکیوشن نے مقدمہ میں زور لگایا کہ یہ سازش کا نتیجہ ہے ۔سلسلہ اگر ایسے حملوں کا دفار کر سکتا تھا تو محض اسی طور پر کہ وہ مدعا علیہ کی امداد کرتا اور اس کے دفاع کے ساتھ ملا کر اپنا دفاع کرتا لیکن مذکورہ بالا وعدہ کی وجہ سے یہ راستہ سلسلہ کے لئے بند ہو چکا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے کئی امور جن کا سلسلہ پر برا اثر پڑتا تھا مسل پر آگئے لیکن ان کے دفاع کا سلسلہ کو کوئی موقع نہ ملا ۔ جھوٹ پھیلتا گیا لیکن اس جھوٹ کا ازالہ نہ ہو سکا ۔ گیا حقیقت یہ ہے کہ جب جھوٹ اور فریب سے کام لے کر ایک منفرد فعل کو سازش قرار دیا جائے تو قانونا اور شرعاً ملزم کی مدد کرنے والے کبھی بھی مجرم نہیں کہلا سکتے کیونکہ گوملزم مجرم ہو مگر جس پر سازش کا الزام لگایا گیا ہے اس کے پاس سوائے اس کے اور کون سا ذریعہ ہے کہ وہ ملزم کی جائز حد تک امداد کرے اور اس کے دفاع کے ساتھ اپنا دفاع ملا کر مسل پر وہ باتیں لے آئے جن کا لانا ضروری ہے۔ اس صورت میں وہ مجرم نہیں کہلا سکتے کیونکہ انہیں اس کام پر مجبور کرنے والے سازش کا الزام لگانے والے ہوتے ہیں ۔ اگر دوسرا فریق ایک بے گناہ جماعت کو موردالزام نہ بنائے تو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ اس میں دخل دے اور اگر مدعی فریق ایک بے گناہ جماعت کو موردالزام بناتا ہے تو اس فریق کے پاس قانونی طور پر سوائے اس کے اور کونسا ذریعہ ہے کہ وہ ملزم کی مدد کرے اور اس کی مدد کرتے ہوئے اپنا دفاع پیش کر دے۔ پس یا تو ہندوستان میں قانون کی اصلاح کی جائے اور ایسے لوگوں کے ذکر کو قطعی طور پر روک دیا جائے جو فریق مقدمہ نہیں ہوتے ۔ یا پھر انہیں فریق مقدمہ کے طور پر پیش ہونے کی