خطبات محمود (جلد 19) — Page 401
خطبات محمود ۴۰۱ سال ۱۹۳۸ پڑے گا کہ احرار اور مسلمانوں نے بھی میاں عبد الرشید دہلوی ، میاں علم دین لاہوری اور میاں عبد الکریم کراچی والے کی مدد کر کے قتل پر انگیخت کی ہے۔آخر یہ ایسے ہی مقدمات تھے جیسے میاں عزیز احمد پر مقدمہ دائر ہوا۔پھر جب ان مقدمات کے دوران میں انہوں نے ملزمین کی مدد کی ہے، ان کے لئے لوگوں سے چندے لئے ہیں اور ان کے مقدمات کی پیروی کے لئے اپنے میں سے وکیل مقرر کئے ہیں اور اس کے معنی قتل کی انگیخت کے ہوتے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ اس مجرم کا ارتکاب وہ بھی کرتے رہے ہیں۔پس جو کام وہ خود بھی کرتے رہے ہیں اگر اسی قسم کا کام بفرض محال کوئی دوسرا بھی کرلے تو اس پر انہیں اعتراض کا کیا حق ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے محض الزام سے ملزم مجرم نہیں بن جاتا۔اسی اصل کے ماتحت اب میں وہ حقیقت بیان کرنا چاہتا ہوں جس کے بعد ہر منصف مزاج شخص یہ سمجھ جائے گا کہ یہ اعتراض کس قدر غلط ہے۔جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا ہے اور اس کی ہمیں کی پہلے پہلے اطلاع ملی ہے تو وہ ایسی شکل میں تھی جس سے اندازہ یہ کیا گیا کہ یہ ایک باہمی لڑائی تھی جس میں غالبا حملہ میاں فخر الدین صاحب کی پارٹی نے کیا تھا اور اس کی بناء بعض ایسے گواہوں کی شہادت پر تھی جنہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے پہلے دو شخصوں کو میاں عزیز احمد صاحب پر حملہ کرتے دیکھا جس کے بعد انہوں نے اُٹھ کر ان میں سے ایک پر حملہ کیا۔(اس کی تشریح اخبار الفضل ۲۰ را گست ۱۹۳۷ ء میں ہو چکی ہے ) اس صورت میں ہم سمجھتے ہیں کہ میاں عزیز احمد صاحب پر قتل کا جو الزام لگایا جاتا ہے وہ غلط ہے اور لازمی طور پر ہمارا فرض تھا کہ ہم اپنے آدمی کی مدد کرتے جب بعض افراد ایک جماعت کی باگ اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی جماعت کو بچانے کے لئے ہر جائز کوشش کریں۔پس بحیثیت خلیفہ ہونے کے میرا اور بحیثیت ناظر ہونے کے ناظروں کا اور بحیثیت پریذیڈنٹ ہونے کے پریذیڈنٹوں کا اور بحیثیت سیکرٹری یا کوئی اور عہدیدار ہونے کے سیکرٹریوں اور باقی تمام عہدیداروں اور بحیثیت احمدی ہونے کے ہر احمدی کا فرض ہے کہ اگر وہ دیکھے کہ کوئی احمدی کسی ایسے الزام میں ماً خوذ ہے جو درست نہیں تو اس کی ہر جائز اور ممکن امداد کرے۔پس اس وقت بحیثیت جماعت ان کی امداد کا فیصلہ کیا گیا۔یعنی وکلاء کو ناظروں نے بلایا اور