خطبات محمود (جلد 19) — Page 380
خطبات محمود ۳۸۰ سال ۱۹۳۸ ء ہے کہ مومن کی غیرت کس رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے ۔ وہ بازار میں سے گزر رہے تھے انہوں نے دیکھا بادشاہ کا ایک درباری اپنے دوستوں کی محفل میں بیٹھا ہوا اسا رنگی بجا رہا ہے۔ اس بزرگ نے اُسے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا اور وہ آگے چلے گئے ۔ اگلے روز یہ پھر گزرے تو پھر وہیں بیٹھا سارنگی بجا رہا تھا۔ انہوں نے اس کے ہاتھ سے سارنگی پکڑ لی اور توڑ پھوڑ کر پھینک دی ۔ اس بزرگ کا چونکہ اثر لوگوں پر تھا اور لوگ ان کی طرف بہت رغبت رکھتے تھے اس درباری نے ان سے مقابلہ مناسب نہ سمجھا مگر جا کر بادشاہ سے شکایت کی اور اسے کہا کہ اگر آپ کے درباریوں کی یوں ہنگ ہونے لگی تو رُعب جاتا رہے گا ۔ بادشاہ نے اس بزرگ کو دربار میں بلوایا ۔ دربار لگا ہوا تھا ،فوجی پہرہ موجود تھا ، بادشاہ نے سارنگی اپنے ہاتھ میں لی اور تخت پر بیٹھ کر اُس کی تاروں سے کھیلنے لگا ۔ وہ بزرگ بھی خاموش بیٹھے رہے اور کچھ نہ کہا۔ جب بادشاہ نے دیکھا کہ وہ بزرگ خاموش ہیں تو اُس نے پوچھا کہ کل کیا واقعہ ہوا تھا ۔ بزرگ نے دریافت کیا کہ کونسا واقعہ؟ تو بادشاہ نے کہا کہ فلاں شخص سارنگی بجا رہا تھا اور تم نے اُسے لے کر توڑ دیا۔ بزرگ نے کہا کہ ہاں حضور ! میں نے توڑ دیا تھا۔ بادشاہ نے پوچھا ۔ کیوں؟ تو اس بزرگ نے جواب دیا اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم کسی بدی کو اُسے دیکھو تو ہاتھ سے مٹا دو ۔ اس پر بادشاہ نے کہا کہ اب میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ اس بزرگ نے جواب دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے روک دو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے ہی بُرا منا لو اس وقت مجھے اس تیسرے حکم پر ہی عمل کی طاقت ہے سو میں کر رہا ہوں ۔ تو اسلام نے غیرت کے مفہوم کا اظہار انکار ، اشکراہ، کراہت یا را باء کے الفاظ میں کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مواقع بھی بتا دیئے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن وحدیث میں غیرت کے مفہوم کے ادا کرنے کے لئے جو الفاظ رکھے گئے ہیں ان کو سننے کے بعد آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ جس مفہوم کو اردو میں لفظ غیرت ادا کرتا ہے اس کے متعلق یہ شرط ہے کہ وہ فعل جس کے لئے غیرت پیدا ہو برا ہونا چاہئے کیونکہ مومن کا دل اچھی چیز کا انکار نہیں کیا کرتا۔ نیز اس سے