خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 379

خطبات محمود ۳۷۹ سال ۱۹۳۸ ء اس وقت پھر یہی حکم ہے کہ دل میں بُرا منا چھوڑے، لیکن اگر وہاں سے اٹھ سکتا ہے تو پھر دل میں بُرا منا نا کافی نہیں ہو سکتا ۔ اس وقت اسے یہی چاہئے کہ اٹھ جائے ۔ وہ اگر نہیں اٹھے گا تو دل میں برا منانا اس کے لئے کافی نہیں ہوگا ۔ پس جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جس فعل پر انسان کو غیرت آئے وہ منگر ہے اور اظہار غیرت کے لئے اباء، انکار، کراہت وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔ انہی الفاظ میں قرآن کریم اور حدیث میں غیرت کے مفہوم کا اظہار کیا گیا ہے۔ اباء کا لفظ غیرت کے لئے اور مواقعۂ غیرت کے لئے منکر کا لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور حدیث میں منگر انکار یا کراہت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور یہ سب لفظ در حقیقت ہم معنی ہیں اور یہی اصل غرض کو واضح کرتے ہیں کیونکہ ہر درجہ کی غیرت کے وقت جو انسان کی ذمہ داری ہے اسے بھی ظاہر کرتے ہیں ۔ مثلاً جب عمل کی طاقت ہو تو اس چیز کا ہٹا دینا ہی را با ء وا نکار کہلا سکتا ہے اور اگر عمل کی طاقت نہ ہو لیکن منہ سے تردید کرنے کی طاقت ہو تو پھر منہ سے یہ بتانا کہ یہ بات جھوٹ ہے ، غلط ہے اور اس کے جھوٹ ہونے کے دلائل یہ یہ ہیں ۔ یہی مناسب صورت انکار کی ہے۔ تیسری انکار کی صورت یہ ہے کہ اگر ہاتھ یا زبان سے روکنے کی طاقت نہیں مگر انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ اس مجلس میں شریک نہ ہو تو وہ اس مجلس سے جس میں بری بات ہو رہی ہو اٹھ کر چلا جائے لیکن جب ان تینوں صورتوں میں سے کسی صورت سے انکار نہ ہو سکے، پھر چوتھا انکار یہ ہے کہ انسان اپنے مان اپنے دل میں کہے کہ بہت اچھا ہم نہ ہاتھ سے روک سکتے ہیں ، نہ زبان سے تردید کر سکتے ہیں ، نہ اٹھ کر جا سکتے ہیں مگر ہمارا دل تو کسی کے قبضہ میں نہیں ہم اسے دل سے برا مناتے ہیں ۔ اور یہ چاروں ذرائع انکار کے اس لفظ کے اندر ہی پائے جاتے ہیں ۔ انکار انکار علمی بھی ہوتا ہے لسانی بھی ۔ انکا ر ا جتنابی بھی اور انکار قلبی بھی ۔ قرآن و حدیث میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ خوبی بھی ہے کہ وہ نہ صرف نام ہیں بلکہ حقیقت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں ۔ زبان عربی کی یہ خوبی ہے کہ جو نام کسی چیز کا ہو وہ نہ صرف یہ کہ اس چیز کو بتا تا ہے بلکہ اس کے استعمال کے مواقع یا اس کی علت یا اس کے خواص پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ اس حدیث کے مطابق ہمارے بزرگوں نے ایک واقعہ بھی لکھا ہے جس سے معلوم ہو سکتا