خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 377

خطبات محمود ۳۷۷ سال ۱۹۳۸ ء & آئی ۔ لیکن عربی میں گالی پر غصہ ہونے کے معنوں میں غیرت کا لفظ استعمال نہیں ہوگا بلکہ انہیں معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ اپنی چیز کسی دوسرے کے پاس چلی جائے ۔ جائز ذریعہ سے یا نا جائز سے اور انسان اسے نا پسند کرے ۔ پس جن معنوں میں غیرت کا لفظ ہم استعمال کرتے ہیں کہ بُرے فعل کو دیکھ کر اسے نا پسند کرنا اور فیصلہ کر لینا چاہئے کہ کچھ بھی ہو میں اس کا مقابلہ کروں گا اور یہ برائی نہیں ہونے ہونے دوں گا ۔ عربی میں اس کے لئے غیرت کا لفظ نہیں بولا جاتا۔ قرآن کریم نے اس کے لئے اباء کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ گویا جن معنوں میں ہم غیرت کا لفظ بولتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ابی کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْتِي اللَّهُ إِلَّا آن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوَكَرِةَ الكَفِرُونَ سے یعنی کفار ہمارے رسول کو مٹانا چاہتے ہیں مگر وہ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم اس بات کو برداشت کر لیں گے ۔ ہرگز نہیں اللہ تعالیٰ ان کی اس بات کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ اور ان کا یہ خواب کبھی بھی پورا نہیں ہونے دے گا۔ خواہ کا فر کتنا زور لگائیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ يأبى الله إلا أن يتم نُورَہ یہاں غیرت کا لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ اباء کا ہوا ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم ہرگز اس بات کو برداشت نہیں کریں گے اور دشمن کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ حدیثوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر انکار یا کراہت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور جن امور پر غیرت آئے انہیں منکرات کہا جاتا ہے ۔ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ خطبہ جمعہ کے دوسرے حصے میں جو آیت کیت پڑھی جاتی ہے اس میں بھی یہ الفاظ آتے ہیں وَ يَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَ الْبَغي ج کے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی تمام بری باتوں سے روکتا ہے والْمُنكَرِ کے معنی ہیں کہ ایسے امور سے خصوصاً جن کے متعلق طبیعت میں غیرت پیدا ہو ( یہاں غیرت کا لفظ اردو کے محاورہ کے مطابق استعمال کیا گیا ہے ) بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کے متعلق کوئی غیرت پیدا نہیں ہوتی مثلاً ایک شخص جھوٹ بول رہا ہے لیکن اس کے جھوٹ سے کسی کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ تو انسان اسے گناہ تو سمجھے گا لیکن طبیعت میں غیرت پیدا نہیں ہو گی ۔ مگر ایک شخص بازار میں کھڑا ہو کر گندی گالیاں بک رہا ہے تو جو بھی شریف الطبع آدمی سنے گا اس کے دل میں