خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 332

خطبات محمود ۳۳۲ سال ۱۹۳۸ء تیسری کوئی صورت نظر نہیں آتی۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کو کوئی چیز اچھی نظر آئے مگر وہ اسے ی ملتی نہ ہو۔اس صورت میں ہم اسے پاگل یا منافق نہیں کہیں گے کیونکہ اگر وہ اس کی تعریف کرتا ہی ہے تو اپنے عقیدہ کا اظہار کرتا ہے اور چونکہ اسے عمل کا موقع نہیں ملا اس لئے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔اگر اسے عمل کا موقع ملے اور وہ غفلت برتے یالا پرواہی سے کام لے تو بے شک ہم کہیں گے کہ یا تو اس کی تعریف منافقانہ اور پاگلا نہ تھی اور یا پھر اب اس پر جنون کا دورہ ہو گیا ہے۔جس کے ماتحت یہ اس چیز کی نیکی اور خوبی کو بھول گیا ہے۔اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان متواتر بلا ناغہ اور دن میں کئی کئی بار الحON TWITTERGENT AND AT A N ! کہتا ہے گویا وہ اقرار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑی تعریف والا ہے، کیوں اس لئے نہیں کہ مجھ پر احسان کرتا ہے، اس لئے نہیں کہ میری خبر گیری کرتا ہے، بلکہ وہ اس لئے تعریف کا مستحق ہے کہ رب العلمین ہے اور ساری دنیا کا خیال رکھتا ت ہے۔رات دن صبح و شام، دو پہر غرض کہ ہر لحظہ اور ہر روز اور ہر ہفتہ اور ہر مہینہ اور ہر سال وہ اس امر کا اقرار کرتا چلا جاتا ہے۔بلوغت سے لے کر موت تک کبھی کھڑے اور کبھی بیٹھے، کبھی لیٹے کبھی ان معتین الفاظ میں اور کبھی عام فقرہ کی صورت میں ہم اس مضمون کو بیان کرتے ہیں۔کبھی تو ال DOWNLOADNANTAGE AND TO WATAN ANLAN ہی کہتے ہیں اور کبھی دوسری دعائیں کرتے ہیں جن کا مطلب بھی دراصل یہی ہے۔جب سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ يَاسُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کہتے ہیں یا اَشْهَدُ أَنْ ANAL NAWAL LAN اللہ کہتے ہیں تو اس کا بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کیونکہ یہ سب باتیں کی ربوبیت عالمین پر دلالت کرتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی سب سے زیادہ تعریف کیوں ہے؟ اس لئے کہ وہ سب کا رب ہے اور اس کے سوا اور کوئی ربوبیت کرنے والا نہیں۔پس بعض حالتوں میں انہی الفاظ میں اور بعض حالتوں میں دوسرے الفاظ میں ہم اللہ تعالیٰ کی یہ صفت بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ واہ واہ ہمارا رب کیسا اچھا ہے ساری دنیا کی ربوبیت کرتا ہے لیکن غور کرنا چاہیئے کہ ہمارے لئے بھی تو ربوبیت کے مواقع آتے ہیں۔اگر ر بو بیت اچھی چیز ہے تو ہمیں بھی یہ صفت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔اگر ہم اسے پیدا کرتے ہیں تو ہمارا الْحَمْدُيده رب العلمین کہنے کا دعوی سچا اور مؤمنانہ ہے۔ورنہ یہ منافقانہ یا پا گلا نہ ہے۔مؤمن کیلئے