خطبات محمود (جلد 19) — Page 331
خطبات محمود ۳۳ ۱۸ سال ۱۹۳۸ ء د احباب جماعت کی تربیت کیلئے تحریک جدید کے جلسے کئے جائیں فرموده ۱۷ رجون ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - :- د عقلمند اور پاگل ، مؤمن اور منافق میں یہی فرق ہوتا ہے کہ عقلمند اور مؤمن کے اقوال اور افعال میں اختلاف اور تضاد نہیں ہوتا لیکن پاگل اور منافق کے کاموں اور قولوں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ یہی ایک علامت ہے جس کے ذریعہ سے پاگل اور منافق و مؤمن اور عقلمند کو پہچانا جا سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو ہم دیکھیں کہ وہ کسی چیز کی تعریف کر رہا ہے لیکن وہ چیز جب اسے میسر آ رہی ہو تو اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا تو ہم سمجھیں گے کہ اس کا تعریف کرنا بناوٹ تھی ۔ اگر واقع میں وہ اس کے نیک اثرات کا قائل ہوتا تو جب وہ اسے میسر آ رہی تھی تو اسے کیوں نہ لیتا۔ پس اس کی تعریف یا تو پاگلا نہ تھی یا منافقانہ ، گو یہ جنون یا منافقت حالات کے ماتحت کم و بیش درجہ کی ہوگی ۔ چنانچہ قرآن کریم نے عارضی حالت کا نام جہالت رکھا ہے۔ اور وہ جہالت جو عارضی طور پر بعد علم کے انسان پر غالب ہوتی ہے قدیم کے انسان پر غالب ہوتی ہے جنون کی ہی ایک قسم ہے۔ جیسا کہ آجکل کی طبی تحقیق میں ایسے جرائم کا موجب جو انسان کے کا عقیدہ اور مسلمات کے خلاف اس سے سرزد ہوں ۔ ا سرزد ہوں ۔ ایک قسم کے جنون کا دورہ ہی بتایا گیا ہے،