خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 328

خطبات محمود ۳۲۸ سال ۱۹۳۸ء غرض جس جس دائرہ میں کوئی شخص کام کرتا ہے اسی دائرہ میں وہ لوگوں کو سمجھانا اپنا فرض قرار می دے لے۔جب اس رنگ میں ہماری جماعت کے تمام افراد کام کریں گے تب وہ دن آئے گا جب اسلامی تعلیم عملی رنگ میں دنیا میں قائم ہو جائے گی۔عربوں کو اس سلسلہ میں بہت آسانی تھی ان کی زبان بھی عربی تھی اور قرآن کریم بھی عربی زبان میں نازل ہوا انتیجہ یہ ہوا کہ وہ بہت جلد اسلامی تعلیم سے آگاہ ہو گئے۔مگر ہمارے لئے یہ مشکل ہے کہ ہماری جماعت کا ایک کثیر حصہ عربی زبان سے ناواقف ہے اس وجہ سے چند لوگ جو عربی جانتے ہیں وہ تو ( بشر طیکہ ان میں تقومی ہو ) اسلامی مسائل کی اہمیت کو سمجھ جاتے ہیں مگر باقی نہیں سمجھتے۔پس یہ عربی جاننے والوں کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کو ان مسائل سے آگاہ کریں بلکہ ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہماری جماعت میں سے ہر شخص کو قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہو۔اس کیلئے اگر مجلس خدام الاحمدیہ ہر جگہ نائٹ سکول کھول دے اور ان لوگوں کو جنہیں قرآن کریم کا ترجمہ نہیں آتا ترجمہ پڑھانا کی شروع کر دے۔تو یہی ایک ایسی خدمت ہوگی جو انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کا مستحق بنا دے گی۔اگر قادیان کا بچہ بچہ قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو تو یقیناً دنیا کا کوئی شہر اس خوبی میں قادیان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔حتی کہ عرب کے شہر بھی اس خوبی میں قادیان کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے کیونکہ عرب بھی سارے کے سارے قرآن پڑھے ہوئے نہیں ہوتے۔پس اگر مجلس خدام الاحمدیہ صرف اتنا کام کرے کہ وہ ان لوگوں کو جنہیں قرآن کریم کا ترجمہ نہیں آتا ، نائٹ سکول قائم کر کے ( تا جو لوگ دن بھر اور کاموں میں مشغول رہتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہوسکیں ) ترجمہ پڑھا دے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے لئے بہت بڑی برکت کا ذخیرہ جمع کر سکتی ہے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ تمہارے سامنے جو کام ہے وہ کوئی معمولی کام نہیں دنیا کی تمام طاقتوں کو مٹاکر اسلامی تعلیم کا از سر نو احیاء تمہارا فرض ہے اور تمہارے کمزور کندھوں پر ایک عظیم الشان بو جھ لادا گیا ہے۔اس کیلئے جب تک تمام افراد مل کر کوشش نہیں کریں گے اور احکام اسلامی کے اجراء میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کریں گے اس وقت تک یہ کام نہیں ہو سکے کہ گا۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِه ۵ کہ تم میں سے ہر شخص بادشاہ ہے اور تم میں سے ہر شخص سے اپنی اپنی رعیت کے متعلق