خطبات محمود (جلد 19) — Page 317
خطبات محمود ۳۱۷ سال ۱۹۳۸ ء کر ختم نبوت یا صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مسائل پر تقریریں کر دینا ان کیلئے کافی نہیں بلکہ ان کا یہ بھی کام ہے کہ وہ اسلام کے تمدنی اور اقتصادی احکام کا مطالعہ کریں ، ان پر غور کریں اور جماعت کے دوستوں تک انہیں پہنچا ئیں اور جماعت کا یہ کام ہے کہ وہ ان مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ مثلاً مجلس خدام الاحمدیہ کے جو ممبر ہیں وہ اگر چاہیں تو اس سلسلہ میں بہت مفید کام کر سکتے ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ تحریک جدید کے مطالبات کو اور ان تمام مسائل کو جو ان مطالبات کی بنیاد ہیں اچھی طرح سمجھ لیں اور پھر انہیں لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع یں۔ اسی طرح اسلام کے جو مسائل تفقہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کا مطالعہ کریں اور انہیں پھیلائیں ۔ خالی یہ مسائل نہیں کہ وضو میں اتنی بار ہاتھ دھونا چاہئے یا اتنی بار کلی کرنی چاہئے ۔ بلکہ وہ مسائل جن کا تعلق تفقہہ سے ہے انہیں نکالیں اور لوگوں کے سامنے بیان کریں ۔ اسی طرح اسلام کے جو اقتصادی احکام ہیں ان کا پہلے خود مطالعہ کریں پھر یہ سوچیں کہ دیگر مذاہب کے احکام پر اسلام کے ان حکموں کو کیا کیا فضیلتیں حاصل ہیں اور جب وہ اپنی معلومات کو مکمل کر لیں تو لوگوں کو ان مسائل سے آگاہ کریں اور مختلف جگہوں میں لیکچر دے کر ہر احمدی کو اس سے واقف کریں اور اسے بتائیں کہ اسلام میں کیسی اعلیٰ تعلیم موجود ہے ۔ اگر وہ اس رنگ میں جد و جہد کر کے تمام جماعت کو اسلامی مسائل سے آگاہ کر دیں تو یقیناً جماعت کا ایک کثیر حصہ ان پر عمل کرنے کیلئے تیار ہو جائے گا کیونکہ میرا تجربہ جماعت کے متعلق یہ ہے کہ اس میں ایمان کی روح کی کمی نہیں جس چیز کی کمی ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ بہت سے لوگ عربی نہیں جانتے اور اسلامی تعلیم کا بیشتر حصہ عربی میں ہے اس لئے وہ اسلام کی تعلیم سے ناواقف رہتے ہیں ۔ اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ اسلام کی ان امور کے متعلق کیا تعلیم ہے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ سو میں سے پچانوے نقصان اٹھا کر بھی اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کیلئے کھڑے ہو جائیں گے کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ کے فضل سے موجود ہے۔ جس چیز کی کمی ہے وہ علم ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ ہماری جماعت کی تمام انجمنوں کا فرض ہے کہ وہ انہیں اسلامی تعلیم سے آگاہ کریں ۔ مثلاً انصار اللہ کی جو جماعتیں مختلف مقامات میں قائم ہیں ان کا صرف یہی کام نہیں کہ وہ تبلیغ کریں بلکہ اپنی جماعت کو اسلام کی تعلیم سے واقف کرنا بھی ان کا کام ہے۔ بعض علوم بیشک ایسے ہیں جو انہیں