خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 309

خطبات محمود ۳۰۹ سال ۱۹۳۸ء ہے۔پس اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ان تمام باتوں کو دنیا میں رائج کریں کیونکہ کوئی بات ایسی نہیں جس کے متعلق اسلام میں کامل تعلیم موجود نہ ہو۔ورثہ کے متعلق قرآن کریم میں احکام موجود ہیں ، لین دین کے معاملات کے متعلق قرآن کریم میں احکام موجود ہیں ، شادی بیاہ کے متعلق قرآن کریم میں احکام موجود ہیں، سیاسیات کے متعلق قرآن کریم میں احکام موجود ہیں، تعلیم و تربیت کے متعلق قرآن کریم میں احکام موجود ہیں، شاگرد کے استاد سے کیسے تعلقات ہوں ، استاد کے شاگرد سے کیسے تعلقات ہوں، بادشاہ کا رعایا سے کیسا سلوک ہو اور رعایا کا بادشاہ سے کیسا سلوک ہو، ان تمام امور کے متعلق اسلام میں نہایت تفصیلی تعلیم موجود ہے اور کوئی شعبہ انسانی زندگی کا ایسا نہیں جس کے متعلق احکام موجود نہ ہوں۔اگر ہم ان تمام احکام پر خود عمل کریں اور دوسروں میں انہیں رائج کریں تو دنیا پر اسلامی احکام کی خوبی خود بخود واضح ہوتی چلی جائے گی اور وہ ایک دن اس بات پر مجبور ہو جائے گی کہ اس طرف گلیہ آجائے۔ہمارے راستہ میں جو چیز روک ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس حکومت نہیں۔یعنی اگر ہم اسلامی قواعد جاری کریں تو ایک ایسا طبقہ کھڑا ہو جاتا ہے جو یہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ ہم پر ظلم کیا جا رہا ہے اور چونکہ حکومت ہمارے پاس نہیں اس لئے حکومت کے بعض افراد کو بھی دشمن اُکسانے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ بنی نوع انسان کے حقوق میں مداخلت کر رہے ہیں اور کوئی یہ خیال کی نہیں کرتا کہ ہم حکومت میں دخل نہیں دینا چاہتے بلکہ شیطان کی حکومت کی جگہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں آخر اسلام کی حکومت اگر دنیا میں قائم ہو تو اس میں میرا کیا فائدہ ہے؟ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا فائدہ ہے ؟ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا فائدہ ہے؟ اس حکومت کے قیام میں تو خدا کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ خدا جس قدرا حکام دیتا ہے وہ اپنے فائدہ کے لئے نہیں دیتا بلکہ لوگوں کے فائدہ کے لئے دیتا ہے۔اگر ہم ان احکام پر عمل کی کریں تو آرام و راحت میں رہ سکتے ہیں اور اگر عمل نہ کریں تو اسی دنیا میں ایک عذاب میں رہیں گے۔چنانچہ قرآن کریم میں بار بار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم جو احکام بھی دیتے ہیں وہ لوگوں کو نفع پہنچانے کیلئے دیتے ہیں اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو وراء الوریٰ ہستی ہے جو غنی اور صمد ہے اسے ان باتوں سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے کہ میاں اور بیوی کے تعلقات کیسے ہوں ،