خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 308

خطبات محمود ۳۰۸ سال ۱۹۳۸ء بازار کا بھاؤ خراب ہوتا ہے اور لوگوں کو بازار والوں پر بدظنی پیدا ہوتی ہے کے فقہاء نے اس پر کی بڑی بحثیں کی ہیں۔بعض نے ایسی روایات بھی نقل کی ہیں کہ بعد میں حضرت عمرؓ نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا تھا مگر بالعموم فقہاء نے حضرت عمرؓ کی رائے کو ایک قابل عمل اصل کے طور پر تسلیم کیا ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ریٹ مقرر کرے ورنہ قوم کے اخلاق اور دیانت میں فرق پڑ جائے گا۔مگر یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ اس جگہ اُنہی اشیاء کی کا ذکر ہے جو منڈی میں لائی جائیں۔جو اشیاء منڈی میں نہیں لائی جاتیں اور انفرادی حیثیت کی رکھتی ہیں ان کا یہاں ذکر نہیں۔پس جو چیزیں منڈی میں لائی جاتی ہیں اور فروخت کی جاتی ہیں ان کے متعلق اسلام کا یہ واضح حکم ہے کہ ایک ریٹ مقرر ہونا چاہئے تا کوئی دکاندار قیمت میں کمی بیشی نہ کر سکے۔چنانچہ بعض آثار اور احادیث بھی فقہاء نے لکھی ہیں جن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔اب دیکھو وہ خوبی جو آج ترک یورپ سے نقل کر کے اپنے اندر پیدا کر رہے ہیں وہ اسلام کے ابتدائی زمانہ سے موجود چلی آتی ہے مگر اس کو مسلمانوں نے بھلا دیا اور سمجھ یہ لیا کہ یہ اچھی باتیں یورپ کی ایجاد کردہ ہیں۔اسی طرح اور ہزار ہا باتیں ہیں جن میں اسلام نے ابتداء سے صحیح تعلیم دی ہوئی ہے جن سے ایک طرف افراد کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے تو دوسری طرف اجتماعی حقوق کی نگرانی ہوتی ہے۔وہ ایک درمیانی راستہ بنی نوع انسان کے سامنے پیش کرتا ہے اور کہتا ہے انفرادیت کا یہ حق نہیں کہ وہ اجتماعیت کو کچلے اور اجتماعیت کا یہ حق نہیں کہ وہ انفرادیت کو کچلے۔مثلاً قرآن شریف حکم دیتا ہے کہ لین دین کا معاملہ ہو تو اسے لکھ لو۔اب کتنے مسلمان ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں۔مگر یورپین لوگ سب اس پر عمل کرتے ہیں اور یورپ والوں نے یہ خوبی سپین والوں سے سیکھی ہے جہاں کئی سو سال تک اسلامی حکومت قائم رہی۔سپین میں جس قد رسودے ہوتے تھے وہ لکھے جاتے تھے اور پرانی اسلامی تاریخ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وقت سودے لکھے جاتے تھے ، یہی قرآن کا حکم ہے۔اگر اس حکم کوملحوظ نہ رکھا جائے تو بسا اوقات بعد میں بڑے بڑے جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔تو چھوٹی باتیں ہوں یا بڑی باتیں سب کی سب قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے انہیں ترک کر دیا