خطبات محمود (جلد 19) — Page 30
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ ء اس طرح ٹھونسنے کی کوشش کریں کہ پھر وہ نکل ہی نہ سکے ۔ ہم میں سے ہر فرد کو جس طرح یہ معلوم ہے کہ میں احمدی ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام راستباز ہیں اسی طرح ہر زمیندار احمدی تک کو یہ علم ہونا چاہئے کہ اُس کے بیوی بچوں کے اُس پر کیا حقوق ہیں اور ان کے متعلق اُس پر کہ اس کیا ذمہ داریاں ہیں، زراعت کے متعلق ، امانت و دیانت کے متعلق، لین دین کے متعلق ، دوسروں سے سلوک کے متعلق اسلام نے کیا تعلیم دی ہے اور یہ چیزیں اسے اس طرح یاد ہوں کہ آپ ہی آپ اس کے منہ سے نکلتی جائیں اور اس کے اعمال سے ظاہر ہوتی رہیں اور اس کے اندر اس طرح راسخ ہو جا ئیں کہ ان کا نکالنا مشکل ہو۔ جو بات اچھی طرح دل میں گڑ جائے پھر اس کا نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کوئی شخص ہندو سے مسلمان ہو ا تھا، کسی مجلس میں بیٹھا ۔ جس طرح مسلمانوں میں اچنبھے کی کوئی بات سن کر اگر وہ بُری ہو تو اسْتَغْفِرُ الله اور اچھی ہو تو سُبْحَانَ اللہ کہتے ہیں ، اسی طرح ہندوؤں میں رام رام کہتے ہیں ۔ اس مجلس میں کسی نے کوئی اچنبھے کی بات کہی تو اس کے منہ سے بے اختیار رام رام نکل گیا۔ کسی نے کہا مسلمان ہو کر بھی رام رام ہی کہتے ہو ! تو اُس نے جواب دیا کہ میری زبان پر اللہ تعالیٰ کا لفظ تو آہستہ آہستہ ہی جاری ہوگا اور رام رام ذرا مشکل سے ہی نکلے گا ۔ تو انسان کو جس بات کی عادت پڑ جائے اُس کا نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے اس لئے اگر ہماری جماعت باہمی تعاون کے ساتھ اس بات کے پیچھے پڑ جائے کہ اسلامی تعلیم کو رائج کرنا ہے اس کے متعلق کہتا ہیں لکھی جائیں اور سوال و جواب کے رنگ میں چھوٹے چھوٹے رسالے شائع کئے جائیں ۔ جس طرح پکی روٹی یا اور اسی قسم کی پنجابی کتا بیں موجود ہیں ۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ان میں کیا ہے لیکن بہر حال ایسی چھوٹی چھوٹی کتا بیں جن میں سوال و جواب کی صورت میں اسلامی باتیں سکھائی گئی ہوں ، تو ایسی کتب اس مقصد کے حصول کیلئے بہت مفید ہوسکتی ہیں اس لئے پنجابی میں ، اردو میں ، نظم میں ، نثر میں ایسی باتیں لوگوں کے ذہن نشین کی جائیں کہ فلاں موقع پر کیا کرنا چاہئے ، فلاں بات یوں کرنی چاہئے ۔ غصہ کے وقت جو جذبات انسان کے ہوتے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا کرنا چاہئے ۔ مثلاً ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر غصہ آجائے تو بیٹھ جاؤ ، پھر بھی غصہ فرو نہ ہو تو ٹھنڈا پانی پیو، پھر بھی اگر غصہ دور نہ ہو تو وہاں سے ہٹ جاؤ سے اب اگر یہ باتیں لوگوں کو