خطبات محمود (جلد 19) — Page 3
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء کہ وہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ اپنی طاقتوں کے لحاظ سے کرتے تھے۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا قَدَرُوا الله حق قدرہ کے ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگایا بلکہ انسانی طاقتوں پر خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا قیاس کر لیا۔جب انہوں نے دیکھا کہ انسان جب ایک طرف نگاہ کرتے ہیں تو دوسری طرف کی چیزیں انہیں نظر نہیں آتیں تو انہوں نے خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ کی نظر بھی محدود ہے۔پھر جب انسانوں نے دیکھا کہ ہم ہر جگہ کی آواز ایک وقت میں نہیں سُن سکتے تو خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ بھی ہر جگہ کی آواز ایک وقت میں نہیں سُن سکتا۔غرض انسانی طاقتوں پر خدائی طاقتوں کا جب انہوں نے قیاس کیا تو انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے بعض شریک مقرر کریں۔اسی خیال کے نتیجہ میں فلسفیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کو گلی علم ہے جو کی نہیں۔یعنی اسے یہ تو پتہ ہے کہ انسان روٹی کھایا کرتا ہے مگر اسے یہ پتہ نہیں کہ زید اس وقت روٹی کھا رہا ہے۔اُسے یہ تو علم ہے کہ انسانوں کے گھر میں بچے پیدا ہوا کرتے ہیں مگر اسے یہ علم نہیں کہ اس وقت زید یا بکر کے گھر میں بچہ پیدا ہو رہا ہے۔مسلمانوں میں اس نہایت ہی گندے اور خبیث عقیدہ کو رائج کرنے والا ابن رشد ہسپانوی ہؤا ہے۔اس کی ذات عجیب قسم کے متضاد خیالات کا مجموعہ تھی۔یہ بڑا فقیہ بھی تھا اور اس نے فقہ کے متعلق بعض اچھی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔پھر قاضی بھی تھا اور ایک وسیع علاقہ پر اس کو قضاء کا اختیار تھا۔گویا ایک قسم کا چیف حج تھا۔پھر نمازیں بھی ادا کر لیا کرتا تھا بلکہ جب اس کے خلاف اسلام عقائد کی وجہ سے بادشاہ نے اسے عہدہ قضاء سے برطرف کر دیا اور مسلمانوں میں اس کے خلاف جوش پیدا ہوا تو اُس وقت اُسے جو تکالیف پہنچیں ان تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اور تکالیف کا مجھے اتنا رنج نہیں جتنا مجھے اس بات کا ہے کہ میں جمعہ کے دن مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو لوگوں نے مجھے مسجد سے نکال دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کو صرف رسمی نماز کی عادت نہیں تھی بلکہ وہ واقعی نماز کی اہمیت کو سمجھتا تھا۔اب ایک طرف نماز کی اہمیت کو سمجھنا جس میں ہر شخص کو براہ راست خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے اور جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر فرد کی آواز سنتا ہے اور دوسری طرف یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کوگالی علم ہے جو کی علم نہیں ،