خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 29

خطبات محمود ۲۹ سال ۱۹۳۸ء دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا لیکن میں نے جب اُس کے سامنے آپ کی کتاب احمدیت سے اسلامی نظام حکومت والا حصہ رکھا اور اُسے کہا کہ اِن دونوں کا مقابلہ کرو اور دیکھو کہ سوویٹ سکیم میں جو نقص ہیں وہ اس میں دور کر دیئے گئے ہیں یا نہیں اور اس کی خوبیاں اس میں موجود ہیں یا نہیں؟ تو وہ کہنے لگا کہ ہاں اگر ایسی حکومت دنیا میں قائم ہو سکے تو پھر کسی اور کی ضرورت نہیں۔اس دوست نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور لکھا ہے کہ میرے لئے ایسے خیالات کے آدمی سے ملاقات کا پہلا موقع تھا اور اسلام کی تعلیم نے جس طرح اس پر اثر کیا اس سے مجھے خیال ہوا کہ یہ کس طرح دلوں کو موہ لینے والی تعلیم ہے۔مگر افسوس ہے کہ ہم اسے دنیا کے سامنے پیش ہی نہیں کرتے۔منہ سے تو کہتے ہیں کہ یہ تعلیم بہت اچھی ہے مگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں کہ جو سب کو نظر آنے والی ہوتی ہیں عملی طور پر انہیں پیش نہیں کر سکتے۔ہم میں سے بہت سے ہیں جن کو یہ بھی علم نہیں کہ ماں باپ اور بیٹیوں کے باہمی تعلقات کے متعلق اسلام نے کیا تعلیم دی ہے۔ہمسائیوں کی کے متعلق کیا تعلیم دی ہے، کون سے اصول ہیں جن کی پابندی ضروری رکھی ہے۔مگر ان کی پابندی کا کبھی خیال بھی ہمارے دل میں نہیں آتا۔منہ سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کہتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ہماری مثال اُس کمزور ہندو کی ہے جس کا مذہب اسے صبح ہی صبح دریا پر نہانے کا حکم دیتا ہے۔مگر سردی کی وجہ سے اس کے لئے چونکہ یہ مشکل ہوتا ہے اس لئے وہ پانی کی گڑوی اپنے سر کے اوپر پھینکتا ہے اور خود گو دکر آگے ہو جاتا ہے اور اس طرح اس کا بدن خشک ہی رہتا ہے۔بعینہ یہی حالت ہماری ہے۔ہم اسلامی تعلیم کی گڑوی اس طرح اوپر پھینک کر خود آگے چھلانگ لگا جاتے ہیں کہ اس کا کوئی چھینٹا بھی ہمارے اوپر نہیں گرتا اور اس کے باوجو د دل میں خوش ہوتے ہیں کہ اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہیں۔پس میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جلسہ سالانہ پر جس بات کا وعدہ انہوں نے کیا تھا اسے عملی رنگ میں پورا کریں۔میں علماء سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اسلامی تمدن کا پوری طرح مطالعہ کریں اور قرآن کریم اور احادیث سے اس کے احکام کو اچھی طرح مستنبط کریں اور پھر دیکھیں کہ اس کا کونسا حصہ ایسا ہے جس پر ہم آج بھی عمل کر سکتے ہیں اور پھر اسے جماعت کے سامنے بار بار پیش کریں اور لوگوں کے دماغوں میں اسے