خطبات محمود (جلد 19) — Page 277
خطبات محمود ۲۷۷ سال ۱۹۳۸ء فرق ہے تو یہی کہ مؤمن خدا تعالیٰ کو ایسی صورت میں دیکھتا ہے جس کے بعد اسے کوئی شک باقی نہیں رہتا۔اور غیر مؤمن اسے ایسی صورت میں دیکھتا ہے جس کے ساتھ بہت سے شکوک وابستہ ہوتے ہیں۔ورنہ تھوڑا بہت ایمان ہر ایک میں پایا جاتا ہے لیکن جب کا فر پر بھی حالت اضطرار آتی ہے تو اس کا وہ شک جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق اس کے دل میں پایا جاتا ہے وقتی طور پر دور ہو جاتا ہے کیونکہ اضطرار کی مثال آگ کی سی ہے جس طرح آگ میں اگر تنکے ڈالے جائیں تو وہ جل جاتے ہیں، لکڑی ڈالی جائے تو وہ بھسم ہو جاتی ہے اسی طرح اضطرار کی آگ کی شکوک وشبہات کے خس و خاشاک کو بالکل جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔چنانچہ ایک غیر مؤمن کے دل میں اسی وقت اضطرار پیدا ہوتا ہے جب اس کے دیوی دیوتا اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں ، جب اس کے اپنے گھڑے ہوئے خدا اسے بالکل ناکارہ اور بریا رنظر آتے ہیں، جب اس کے اپنے اختیار کئے ہوئے عقائد اسے غیر ملفی دکھائی دیتے ہیں اور جبکہ ساری دنیا سے نگاہیں ہٹ کر صرف ایک خدا کی ذات اس کے سامنے ہوتی ہے اور وہ گڑ گڑاتے اور روتے ہوئے خدا تعالیٰ کے سامنے یہ کہہ کر گر جاتا ہے کہ اے خدا ! میری مدد کر۔جب یہ کیفیت کسی شخص کے اندر پیدا ہو جاتی ہے تو عارضی طور پر وہ اس وقت مؤمن ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی دعا کو قبول کر لیتا ہے۔تو غیر مؤمن کیلئے مضطر کی شرط ہے۔مگر مؤمن کیلئے محض الدّار ہونے کی شرط ہے۔اور قطع نظر اس سے کہ اس پر اضطرار کی حالت وارد ہو یا نہ ہو اور وہ ہلاکت کے قریب پہنچے یا نہ پہنچے اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو سن لیتا ہے۔تو اجيب دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں مؤمن کی دعا کی طرف اشارہ ہے اور آمن يُجِيبُ الْمُضْطَر میں مؤمن اور کا فرسب کی دعا کی طرف اشارہ ہے۔اب جو خدا کا فر اور مؤمن دونوں کی دعائیں سننے والا ہے، کافر کی اُس وقت جب وہ مضطر ہو کر بمنزلہ مؤمن ہو جاتا ہے اور مؤمن کی اُس وقت جب وہ شرعی قواعد کے مطابق خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوتا ہے جیسا کہ الدّاء کے لفظ میں ال کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ خود مؤمنوں کو ایک دعا سکھائے اور پھر اسے رد کر دے۔جو فرمایا ہے کہ اهدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : خدایا! ہمیں سیدھا رستہ دکھا۔ان لوگوں کا راہ جو منعم علیہم ہیں اور جن پر تیری نعمتیں