خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 255

خطبات محمود ۲۵۵ سال ۱۹۳۸ ء پہنچتا ہے تو وہ اس مشورہ کو رڈ بھی کر دے گا مگر اس اختیار کے باوجود اسلامی نظام مشورہ اور رائے عامہ کو بہت بڑی تقویت دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ اتنے لوگوں کی رائے کو جو پبلک میں ظاہر ہو چکی ہو کبھی کوئی شخص خواہ وہ کتنی بڑی حیثیت کا ہو معمولی طور پر رڈ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا ۔ وہ کثرت رائے کو اُسی وقت رڈ کر سکتا ہے جب وہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی ذمہ داری کا یہی تقاضا ہے۔ یہ امر ظاہر ہے کہ اکیلے شخص کو یہ جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ کثرت رائے کورڈ کر دے ۔ کثرت رائے کو رڈ یا تو پاگل کر سکتا ہے اور یا پھر وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی طاقت ہے جو اس کی بات کو منوا لے گی ۔ پس خلفاء اُسی وقت ایسی رائے کورڈ کر دیں گے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی مدد کا یقین رکھیں گے اور سمجھیں گے کہ ہم صرف خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کر رہے ہیں اور جب وہ خدائی طاقت سے جماعت کے مشورہ کورڈ کریں گے تو ان کی کامیابی یقینی ہوگی ۔ غرض اسلام نے شوری کے نظام سے خودسری اور خود رائی کے کیلئے ایک بڑی روک پیدا کر دی ہے۔ پھر تربیت کے لحاظ سے بھی مشورہ ضروری ہے کیونکہ اگر مشورہ نہیں لیا جائے گا تو جماعت کے اہم امور کی طرف افراد جماعت کو توجہ نہیں ہوگی اس لئے بعد میں آنے والا خلیفہ بوجہ نا تجربہ کاری اور حالات سلسلہ سے ناواقفیت کے بالکل بدھو ہوگا ۔ یہ کسی کو کیا علم ہے کہ کون پہلے مرے گا اور کون بعد میں اور کس کے بعد کس نے خلیفہ ہونا ہے اس لئے یہ حکم شریعت نے دے دیا ہے کہ مشورہ ضرور لو تا جماعت کی تربیت ہوتی رہے اور جو بھی خلیفہ ہو وہ سیکھا سکھایا ہو اور نئے سرے سے اُس کو نہ سیکھنا پڑے۔ اس میں اور بھی بیسیوں حکمتیں ہیں مگر میں اس وقت انہیں نہیں بیان کر رہا ۔ مختصر یہ ہے کہ شوری خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص حکمت کے ماتحت ہے ۔ قرآن کریم میں ہے کہ وَآمُرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ م ش گویا مشوره والی انجمن کو قرآنی تائید حاصل ہے اور اس کا ذکر قرآن کریم میں کر کے اسے اہم قرار دے دیا ہے ۔ گو قرآن کریم میں کا رکنوں کا بھی ذکر ہے مگر شوری کو ایک فضیلت دی گئی ہے اور جب جماعت کے مختلف افرا د مل کر ایک مشورہ دیں اور خلیفہ اسے قبول کرلے تو وہ جماعت میں سب سے بڑی آواز ہے اور ہر خلیفہ کا فرض ہے کہ وہ دیکھے جس مشورہ کو اس نے قبول کیا ہے اس پر کا رکن عمل کرتے ہیں یا نہیں