خطبات محمود (جلد 19) — Page 248
خطبات محمود ۲۴۸ ۱۵ سال ۱۹۳۸ ء ا۔ مجلس شوری میں تنقید کے اصول ۲۔ جماعت احمدیہ اور حکام کے تعلقات (فرموده ۲۲ را پریل ۱۹۳۸ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - ” میرے سامنے ایک سوال اُٹھایا گیا ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ مجھے جماعت کے سامنے اپنے خیالات کے اظہار کی ضرورت ہے تا جس جس حصہ میں کوئی نقص ہے اس کی اصلاح ہو سکے ۔ مجھ سے کہا گیا ہے کہ مجلس شوری کے موقع پر ناظروں کے کام پر جس رنگ میں تنقید کی جاتی ہے اس کے نتیجہ میں ناظروں کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور ان کا مقام جماعت کی نگاہ میں گر جاتا ہے اور یہ کہ اس تنقید کا موجب وہ تنقید ہوتی ہے جو کبھی میری طرف سے ناظروں کے کام پر کی جاتی ہے۔ میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ اگر وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں سلسلہ کے کام کی باگ ڈور ہو، اُن کی حیثیت اور مقام لوگوں کی نظروں سے گرادیا جائے اور لوگوں میں ان کی سبکی کر دی جائے تو کام میں دقتیں ضرور پیدا ہوتی ہیں ۔ اگر یہ امر واقعہ ہو کہ موجودہ حالات میں ناظروں کا مقام اور ان کی حیثیت اور ان کے مہدے کا اعزاز اور اکرام کم ہو گیا ہوا اور لوگوں کی نظروں میں ان کی عزت نہ رہی ہو تو اس میں شک نہیں کہ ان کو کام میں دقتیں پیدا ہو سکتی ہیں اور ہونے کا خطرہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس سوال کے کئی حصے ہیں اور وہ