خطبات محمود (جلد 19) — Page 24
خطبات محمود ۲۴ سال ۱۹۳۸ ء اور اس لئے برطانوی حکومت ایسے معاملات میں کم سے کم دخل دیتی ہے۔ میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑتا کہ دونوں میں سے کون سا اصل بہتر ہے۔ چاہے میرے نزدیک فسطائی یا ناسی اصول ہی نسبتاً زیادہ صحیح ہوں مگر بہر حال اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی حکومت کے ماتحت رکھا ہے کہ ہمارے لئے یہ موقع ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کے بغیر اسلامی تعلیم کو جاری کر سکیں اور پھر نظام کے ذریعہ اسے طاقت دے سکیں اور اس سہولت کی موجودگی میں سمجھتا ہوں الہی حکم ہوں الہی حکمت کے بغیر نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جب کسی نبی کو مبعوث کرنا ہوتا ہے تو ہزاروں سال پہلے اس کیلئے تغیرات کرتا ہے اور اس طرح داغ بیل ڈالتا ہے کہ اسے اپنے کاموں میں سہولت حاصل ہو سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ برطانوی حکومت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ہے ہے اس کے یہ معنے نہیں کہ انگریز قوم کے افراد بہت نیک اور اسلام کی تعلیم کے قریب ہیں ۔ ان میں بھی ظالم ، غاصب ، فاسق ، فاجر اور ہر قسم کا خُبث رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور دوسری قوموں میں بھی ۔ ان میں بھی اچھے لوگ ہیں اور دوسری قوموں میں بھی ۔ جو چیز رحمت ہے وہ یہ ہے کہ یہ حکومت افراد کی آزادی میں بہت کم دخل دیتی ہے اور وہ جن معاملات میں دخل نہیں دیتی ان میں اسلام کی تعلیم کو قائم کرنے کا ہمارے لئے موقع ہے ۔ پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ایسی قوم کو ہم پر حاکم مقرر کیا کہ جو افراد کے معاملات میں بہت کم دخل دیتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اگر ناٹسی یا فیسٹ لوگ ہم پر حکمران ہوتے تو وہ دوسرے معاملات میں انگریزوں سے بھی اچھے ہوتے ۔ ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کا خوف ان سے زیادہ رکھنے والے اور زیادہ عدل کرنے والے ہوتے مگر انفرادی آزادی وہ اتنی نہ دیتے جتنی انگریزوں نے دی ہے۔ وہ اشخاص کے لحاظ سے تو اچھے ہوتے مگر سلسلہ کے لحاظ سے ہمارے لئے مضر ہوتے اور اس کے یہ معنی ہوتے کہ جب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہو جاتی اسلامی تعلیم کو قائم کرنے کا دائرہ ہمارے لئے بہت ہی محدود ہوتا اور اسلامی احکام میں سے بہت ہی تھوڑے ہوتے جن کو ہم قائم کر سکتے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہی معنوں کے لحاظ سے انگریزی حکومت کو رحمت قرار دیا ہے اور اس قوم کی تعریف کی ہے ۔ آپ کا یہ مطلب نہیں کہ انگریز انصاف زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ انصاف کے معاملہ میں کوئی