خطبات محمود (جلد 19) — Page 22
خطبات محمود ۲۲ سال ۱۹۳۸ ء اسے قائم کر سکے اس لئے ان کی حفاظت فرمائے آپ نے یہ نہیں کہا کہ یہ میرے رشتہ دار ہیں یا میرے عزیز دوست ہیں یا کوئی معززین ہیں یا کسی عام صداقت کیلئے کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی غیر معمولی سلوک کی کوئی وجہ نہ تھی اور ان کی قیمت اتنی نہ بن سکتی تھی کہ ان کے لئے دوسروں پر عذاب نازل کیا جائے ۔ ان کی قیمت بڑھانے والی صرف یہی ایک چیز تھی کہ ان کا مٹنا خدا کی توحید کا مٹنا ہے اور اُس کی عبادت کا مٹنا ہے ۔ پس آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ابو بکر میرا پیارا ہے ، عمر اور عثمان میرے پیارے ہیں اور دوسرے صحابہ میرے پیارے اور عزیز ہیں ۔ ان سب امور کو نظر انداز کر کے آپ نے یہ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں معرفت کی شراب بھری ہے اور اگر یہ لوگ مٹ گئے تو پھر دنیا میں تیری توحید اور تیری عبادت کو قائم کرنے والا اور کوئی نہ ہوگا ۔ پس جب انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی معرفت بھر جائے تو وہ اسے ایسا پیارا ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کی ذات کی خاطر نہیں بلکہ اس چیز کی خاطر جو اس کے دل میں بھری ہے ۔ جس طرح انسان مٹی کی پیالی کی حفاظت کرتا ہے۔ اُس پیالی کیلئے نہیں بلکہ اس چیز کیلئے جو اس میں پڑی ہوئی ہے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ یہ سمجھتا ہے کہ اب یہ انسان محض خاک کا پتلا نہیں رہا بلکہ اب اس کے ساتھ میری تو حید اور میری تعلیم وابستہ ہو گئی ہے اور اس کے اندر وہ چیز بھر گئی ہے جو دنیا کی نجات کیلئے ضروری ہے ۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو سب سے پہلے تو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات کو پیدا کریں اور اپنے آپ کو اس کی ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت یوم الدین کی صفات سے ایسا وابستہ کر لیں کہ وہ معمولی انسان نظر نہ آئیں بلکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، اُس کی رحمانیت و رحیمیت اور مالکیت یوم الدین کی صفات نظر آئیں اور اگر کوئی ان کو تباہ کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ کہے کہ ان پر حملہ کرنے والا دراصل میری ان صفات پر حملہ کرتا ہے۔ اگر یہ لوگ مٹ گئے تو اور کون ہے جو دنیا میں میری ان صفات کو قائم رکھے گا اس لئے وہ ان کی حفاظت کرتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے والوں کو نا کام کر دیتا ہے۔ تحریک جدید کے دوسرے دور کی تحریک سے میری غرض یہی ہے کہ ہم دنیا میں اسلامی تعلیم