خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 204

خطبات محمود ۲۰۴ سال ۱۹۳۸ ء پھر حضرت خلیفہ اول کو ہم نے دیکھا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں آپ ہمیشہ پیچھے ہٹ کر بیٹھا کرتے تھے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آپ پر نظر پڑتی تو آپ فرماتے مولوی صاحب آگے آئیں اور آپ ذرا کھسک کر آگے ہو جاتے ۔ پھر دیکھتے تو فرماتے مولوی صاحب اور آگے آئیں اور پھر آپ ذرا اور آگے آجاتے ۔ خود میرا بھی یہی حال تھا۔ جب حضرت خلیفہ اول کی وفات کا وقت قریب آیا اُس وقت میں نے یہ دیکھ کر کہ خلافت کیلئے بعض لوگ میرا نام لیتے ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ، یہ ارادہ کر لیا تھا کہ قادیان چھوڑ کر چلا جاؤں تا جو فیصلہ ہونا ہو میرے بعد ہو مگر حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ میں نہ جا سکا۔ پھر جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوگئی تو اُس وقت میں نے اپنے دوستوں کو اِس بات پر تیار کر لیا کہ اگر اس بات پر اختلاف ہو کہ خلیفہ کس جماعت میں سے ہو، تو ہم ان لوگوں میں سے ( جو اب غیر مبائع ہیں ) کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور پھر میرے اصرار پر میرے تمام رشتہ داروں نے فیصلہ کیا کہ اگر وہ اس امر کو تسلیم کر لیں تو اول تو عام رائے لی جائے اور اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو۔ اور اگر وہ یہ بھی قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے اور میں یہ فیصلہ کر کے خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہ محفوظ رہے گی ۔ چنانچہ گزشتہ سال حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے بھی حلفیہ بیان شائع کرایا تھا کہ میں نے حافظ صاحب کو اُنہی دنوں کہا تھا کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ خلیفہ بنادے تو میں اپنے تمام متعلقین کے ساتھ ان کی بیعت کرلوں گا“ کے لیکن اللہ تعالیٰ نے دھگا دے کر مجھے آگے کر دیا۔ تو اللہ تعالیٰ جس کو بڑا بنانا چاہے وہ دنیا کے کسی کو نہ میں پوشیدہ ہو، خدا تعالیٰ اُس کو نکال کر آگے لے آتا ہے ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ اس کیلئے میں پھر حضرت لقمان والی مثال دیتا ہوں ۔ حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں يبُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَوتِ او فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِبها الله ۵ کہ اے میرے بیٹے ! اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی چیز ہو اور وہ کسی پتھر میں پوشیدہ ہو یا آسمانوں اور زمین میں ہو تو اللہ تعالیٰ اُس کو نکال کر