خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 200

خطبات محمود ۲۰۰ سال ۱۹۳۸ ء لئے شروع میں میں نے انہیں اجازت دی ہے کہ وہ ہم ذوق لوگوں کو اپنے اندر شامل کریں لیکن میں نے انہیں یہ ہدایت بھی کی ہے کہ جہاں تک ان کیلئے ممکن ہو باقی لوگوں کو بھی اپنے اندر شامل کریں مگر میں نے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ نو جوانوں میں کام کرنے کی روح پیدا ہو یہ ہدایت کی ہے کہ جو لوگ جماعت میں تقریر و تحریر میں خاص مہارت حاصل کر چکے ہوں اُن کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے ۔ جس کی وجہ سے بعض دوستوں کو غلط نہی بھی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہماری جماعت کے ایک مبلغ مجھ سے ملنے کیلئے آئے اور کہنے لگے کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں میں نے کہا میں تو ناراض نہیں ، آپ کو یہ کیونکر وہم ہوا کہ میں ناراض ہوں ۔ وہ کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ میں میری شمولیت کی اجازت نہیں دی ۔ میں نے کہا یہ صرف آپ کا سوال نہیں جس قدر لوگ خاص مہارت رکھتے ہیں اُن سب کی شمولیت کی میں نے ممانعت کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر بڑے آدمیوں کو بھی ان میں شامل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ پریزیڈنٹ بھی انہی کو بنائیں گے ،سیکرٹری بھی انہی کو بنائیں گے، مشورے بھی انہی کے قبول کریں گے اور اس طرح اپنی عقل سے کام نہ لینے کی وجہ سے وہ خود بدھو کے بدھور ہیں گے ۔ مثلاً میں اگر کسی انجمن یا جلسہ میں شامل ہوں تو یہ قدرتی ات ہے کہ چونکہ جماعت کے اعتقاد کے مطابق خلیفہ المسیح سے بڑا مقام اور کوئی نہیں ، اس لئے وہ کہیں گے کہ خلیفہ مسیح کو ہی پریذیڈنٹ بنایا جائے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جو تربیت پریزیڈنٹی سے حاصل ہوتی ہے وہ بیچ میں ہی رہ جائے گی اور جماعت اس قسم کے تجربے سے محروم رہ جائے گی ۔ پس میں نے خاص طور پر انہیں یہ ہدایت دی ہے کہ جن لوگوں کی شخصیتیں نمایاں ہو چکی ہیں اُن کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے تا انہیں خود کام کرنے کا موقع ملے ۔ ہاں دوسرے درجہ یا تیسرے درجہ کے لوگوں کو شامل کیا جا سکتا ہے تا اُنہیں خود کام کرنے کی مشق ہو اور وہ قومی کاموں کو سمجھ سکیں اور اُنہیں سنبھال سکیں ۔ چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ اس وقت تک انہوں نے جو کام کیا ہے اچھا کیا ہے اور محنت سے کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں انہیں یہ اجازت دے دیتا کہ وہ پرانے مبلغین مثلاً مولوی ابوالعطاء اللہ دیتا صاحب یا مولوی جلال الدین صاحب شمس اور اسی قسم کے دوسرے مبلغوں کو بھی اپنے اندر شامل کر لیں تو جو اشتہارات اس وقت تک ۔