خطبات محمود (جلد 19) — Page 171
خطبات محمود ۱۷۱ سال ۱۹۳۸ ء آئیں گے اور آزمائش پر آزمائش ہو گی ، یہاں تک کہ بہت سے لوگ جھڑ جائیں گے اور صرف وہی باقی رہ جائیں گے جو سچے مومن ہوں گے اور اُنہی کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ احمدیت کو فتح دے گا۔ بہت سے نادان ایسے ہیں جو میری نسبت اعتراض کرتے رہتے ہیں اور دنیا کا طریق بھی کچھ ایسا ہے کہ جو حاضر شخص ہوتا ہے اس پر اعتراض لوگ آسانی سے قبول کر لیتے ہیں کیونکہ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو اسے لوگوں کے خلاف منشاء کرنی پڑتی ہیں اور اس کا اُنہیں رنج ہوتا ہے۔ لیکن وہ شخص جو فوت ہو جاتا ہے لوگ اُس پر اعتراض بہت کم کیا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اس نے دنیا میں جو کام کرنا تھا کر لیا۔ پس دنیا میں حاضر شخص پر الزام زیادہ قائم ہوا کرتے ہیں اور وفات یافتہ لوگوں کی تعریف زیادہ کی جاتی ہے۔ چونکہ اس زمانہ میں ایک حصہ جماعت کو منافقوں کے اثر کی وجہ سے مجھ پر اعتراض کرنے کی عادت ہوگئی ہے اس لئے جب میری طرف سے قربانیوں کا مطالبہ ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ اپنی طرف سے بات بنا رہے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لٹریچر موجود ہے، اسے پڑھو ۔ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے صاف طور پر لکھا ہے کہ میرے بعد ابتلاء پر ابتلاء آ ئیں گے اور اس حد تک آئیں گے کہ جماعت کا کمزور حصہ الگ ہو جائے گا مگر وہ جو آخر دم تک ثابت قدم رہیں گے خدا تعالی انہی کے ذریعہ قدرت ثانیہ کے بعض مظاہر کی ماتحتی میں احمدیت کو فتح دے گا ۔ اب یا تو یہ سمجھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس سازش میں میرے ساتھ شریک ہیں ۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا دعویٰ لوگوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ موسٹی نے میرے متعلق یہ یہ پیشگوئیاں کی ہیں تو مکہ کے نادانوں نے سمجھا کہ موسی کوئی زمانہ حال کا آدمی ہے جس سے مشورہ کر کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے متعلق پیشگوئیاں کرائی ہیں اور اُنہیں لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کیا تو مدین میں موجود تھا یا طور پر موجود تھا کہ موسیٰ سے تو نے یہ باتیں کہلا لیں؟ اسی طرح ؟ اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ اگر جو کچھ میں نے کہا وہ غلط ہے تو کیا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا تھا کہ آپ اپنی کتابوں میں یہ یہ باتیں لکھ جائیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر خدا تعالیٰ سے خبر پا کر جماعت کو اطلاع دی تھی کہ