خطبات محمود (جلد 19) — Page 156
خطبات محمود ۱۵۶ سال ۱۹۳۸ء (مصری صاحب کے نقل کردہ حصہ کو خالی چھوڑ دیا گیا ہے اور جو حصہ انہوں نے جان بوجھ کر چھوڑ کی دیا ہے تا کہ لوگوں کو دھوکا لگے اُس کے نیچے لکیر کھینچ دی گئی ہے تا دوستوں کو معلوم ہو جائے کہ کس قدرخیانت سے کام لیا گیا ہے )۔یا درکھو دنیا میں قیام امن دو ذرائع سے ہوتا ہے یا اُس وقت جب مارکھانے کی طاقت انسان میں پیدا ہو جائے۔یا جب دوسرے کو مارنے کی طاقت انسان میں پیدا ہو جائے۔درمیانی دوغلہ کوئی چیز نہیں۔اب جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم سے میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم میں مارکھانے کی طاقت ہونی چاہئے۔بالکل ممکن ہے تم میں سے بعضوں کا خیال ہو کہ ہم میں مارنے کی طاقت ہونی چاہئے۔میں اسے غیر معقول نہیں کہتا۔ہاں غلط ضرور کہتا ہوں۔یہ ضرور کہتا ہوں کہ اس نے قرآن کو نہیں سمجھا ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو نہیں سمجھا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے مارنے کیلئے جو شرائط رکھی ہیں وہ اس وقت ہمیں میسر نہیں۔پس کم سے کم میں اسے شرارتی یا پاگل نہیں کہوں گا۔میں زیادہ سے زیادہ یہی کہوں گا کہ اس کی ایک رائے ہے جو میری رائے سے مختلف ہے۔لیکن تمہاری یہ حالت ہے کہ تم میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے اور پھر جب وہ ہماری تعلیم کے صریح خلاف کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے تو بھاگ کر ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بچانا ، مجھے بچانا۔آخر جماعت تمہیں کیوں بچائے۔کیا تم نے جماعت کے نظام کی پابندی کی یا اپنے جذبات پر قابو رکھا اور اگر تم اس خیال کے قائل نہیں تھے تو پھر تمہیں ہمارے پاس بھاگ کر آنے کی کیا ضرورت ہے۔تمہیں چاہئے کہ تم دلیری دکھاؤ اور اپنے جرم کا اقرار کرو۔اوپر کی نشان کردہ عبارت کو مصری صاحب نے چھوڑ دیا ہے اور اگلی عبارت اس کے ساتھ جوڑ دی ہے۔) اگر ان دونوں عقیدوں کے چالیس چالیس آدمی بھی میسر آجائیں جو مارکھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں تو وہ دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔اور اگر چالیس آدمی ایسے میسر آجائیں جو مارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں تو وہ بھی دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔اس کے آگے کی عبارت پھر انہوں نے چھوڑ دی ہے۔)