خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 155

خطبات محمود ۱۵۵ سال ۱۹۳۸ ء گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہے جاتے ہیں۔ تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اور پھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آ کر ختم ہو جاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو وہ تمہاری مدد کرے ۔ وہ تمہارے صبر کو بُزدلی پر محمول کریں گے ۔ تمہارا گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنا بالکل بے سود ہے۔ یہ الفاظ ہیں جو مصری صاحب نے میری طرف منسوب کئے ہیں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دس یہ میرا خطبہ ”الفضل‘ ۵ جون ۱۹۳۷ ء میں دس صفحات پر شائع ہوا ہے اور ان انہوں نے اس صفحہ کے خطبہ میں سے یہ الفاظ کہیں کہیں سے کاٹ کر لکھ دیئے ہیں۔ میں اس خطبہ کا موضوع بتا دیتا ہوں تا اس کے سمجھنے میں آسانی ہو۔ بات یہ ہے کہ یہاں آریوں کا ایک جلسہ ہوا جس کے سلسلہ میں اُنہوں نے جلوس نکالا اور اُس میں دلیکھرام زندہ باد کے نعرے لگائے۔ اس پر ایک احمدی نے جو وہاں کھڑا تھا ” مرزا غلام احمد زندہ باد کے نعرے لگائے ۔ اور بعض مقامی افسروں نے افسرانِ بالا کے پاس شکایت کی کہ احمدیوں نے اس موقع پر اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا۔ میں اُس وقت سندھ میں تھا۔ میرے پاس ایک احمدی نے یہ شکایت لکھ کر بھیجی کہ مقامی پولیس والے ہمارے خلاف کیسی کیسی شرارتیں کر رہے ہیں کہ ایک احمدی نے مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا مگر وہ یہ کہہ رہی ہے کہ اس نے لیکھر ام مردہ باد کہا تھا ۔ اس پر میں نے سندھ سے واپس آکر یہ خطبہ پڑھا اور اس خطبہ کا مضمون یہ ہے کہ اس احمدی نے اگر مرزاغلام احمد زندہ باد کہا تو بھی غلطی کی اس لئے کہ اگر آر یہ ہمارے کسی جلسہ میں آکر لیکھرام زندہ باد ، کہیں تو ہمیں اُس پر غصہ آئے گا یا نہیں؟ اسی طرح ان کے جلوس کے موقع پر مرزا غلام احمد زندہ باد کہنا بھی ان کیلئے اشتعال کا موجب تھا۔ سو خطبہ کا مضمون تو یہ ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہے کہ جاؤ اور جا کر مخالفوں کو مار دو۔ غور کرو ان دونوں وو وو وو وو باتوں میں کوئی بھی جوڑ ہے؟ میں تو کہتا ہوں کہ اس احمدی کو ”مرزا غلام احمد زندہ باد بھی اس موقع پر نہیں کہنا چاہئے تھا ۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ میں نے تلقین کی ہے کہ جاؤ اور جا کر مخالفوں کو مار دو۔ اب دیکھو میرے الفاظ کس طرح کاٹے گئے ہیں ۔ میر ہیں ۔ میری عبارت یوں ہے :