خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 154

خطبات محمود اولد سال ۱۹۳۸ ء بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ معافی مانگو تم نے گالی دی ہے ۔ تو وہ کہے کہ میں نے تو گالی دی ہی نہیں معافی کیسی مانگوں ۔ اگر تو ہائیکورٹ کے حج کہتے ہیں کہ اس خطبہ میں سزا سے مراد جسمانی سزا ہی ہے مگر ہم اپنے الفاظ واپس نہیں لے سکتے پھر تو مصریوں کا اعتراض صحیح ہو سکتا تھا۔ مگر جب وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو یہ الفاظ کہے ہی نہیں تو پھر صرف یہ کہتے چلے جانا کہ درخواست مسترد ہو گئی ، کس قدر دھوکا ہے ۔ ان لوگوں کی دیانتداری اور تقویٰ کا حال اور بہت سی باتوں سے بھی معلوم ہو سکتا ہے ۔ مثلاً یہ کہ یہ لوگ واقعات کو بالکل غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں اور چھپے ہوئے حوالہ جات کو پیش کرتے ہوئے بھی بد دیانتی سے نہیں رکتے ۔ مثلاً شیخ مصری صاحب نے مجھ پر جو استغاثہ دائر کیا تھا اُس میں مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ گویا میں نے خطبات کے ذریعہ سے قتل کی تحریک کی ہے اور ثبوتوں میں سے ایک ثبوت کے طور پر ۲۳ رمئی ۱۹۳۷ء وو کے ایک خطبہ کو پیش کیا تھا اور لکھا تھا کہ مرزا محمود احمد نے اپنے اس خطبہ میں کہا ہے کہ ” یا د رکھو دنیا میں قیام امن دو ذرائع سے ہوتا ہے یا اُس وقت جب مارکھانے کی طاقت انسان میں پیدا ہو جائے یا جب دوسرے کو مارنے کی طاقت انسان میں پیدا ہو جائے ۔ درمیانی دوغلہ کوئی چیز نہیں ۔ اگر ان دونوں عقیدوں کے چالیس چالیس آدمی بھی میسر آجائیں تو ہم دنیا کو ڈرا سکتے ہیں ۔ اگر چالیس آدمی ایسے میسر آجائیں جو مار کھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں تو وہ دنیا کو ڈرا سکتے ہیں اور اگر چالیس آدمی ایسے میسر آجائیں جو مارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں تو وہ بھی دنیا کو ڈرا سکتے ہیں ۔ بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو دلیری سے سچ بولتا ہے اور اگر مار کھانے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر جوش میں نہیں آتا اور اپنے نفس کو شدید اشتعال کے وقتوں میں بھی قابو میں رکھتا ہے ۔ پس اگر تم جینا چاہتے ہو تو دونوں میں سے ایک اصل اختیار کرو۔ میں پھر ایک دفعہ کھول کھول کر بتا دیتا ہوں کہ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق دو ہی ہوتے ہیں ۔ یا انسان کو مرنا آتا ہو یا انسان کو مارنا آتا ہو۔ اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اُس سے کہوں گا کہ اے بے شرم ! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں توڑ نہیں دیتا جس منہ سے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دلوائی ہیں ۔