خطبات محمود (جلد 19) — Page 128
خطبات محمود ۱۲۸ سال ۱۹۳۸ء جماعتوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ماریں کھائیں اور خاموش رہیں ، گالیاں سنیں ! دم نہ ماریں۔اب یہ جو میں نے کہا تھا کہ نبیوں کی جماعتوں والا طریق یہ ہے کہ تم ماریں کھاؤ اور خاموش رہو۔اس کو تو انہوں نے حذف کر دیا اور میرے اس فقرہ کو لے لیا کہ کامیابی دشمن کو مار کر حاصل ہوتی ہے۔حالانکہ میں نے وہاں صاف طور پر بتا دیا تھا کہ یہ دنیوی طریق ہے، انبیاء کا طریق نہیں ہے۔مگر چونکہ تمام فقرات اگر وہ نقل کر دیتے تو ان کا دعویٰ خود ہی باطل ہو جاتا اس لئے انہوں نے کوئی فقرہ کہیں سے لے لیا اور کوئی کہیں سے اور اس کا ایک مفہوم نکال کر کہہ دیا کہ اس میں اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کی تحریک کی گئی ہے۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے ہم دورانِ گفتگو میں اگر یہ کہیں کہ فلاں چور یہ کہتا ہے کہ چوری کرو تو دوسرا اس فقرہ کے ابتدائی حصہ کو جس میں چور کی طرف بات منسوب کی گئی ہے حذف کر کے کہنا شروع کر دے کہ یہ لوگوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ چوری کرو اور اُس امر کو چھپا ڈالے کہ چور کا قول نقل کیا گیا تھا نہ کہ اپنی طرف سے بات کہی تھی۔اسی قسم کے ایک شخص کے متعلق مشہور ہے کہ وہ نمازیں نہیں پڑھا کرتا تھا۔ایک دن لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ بھئی نماز کیوں نہیں پڑھتے وہ کہنے لگا میں نماز کیا پڑھوں۔قرآن کریم خود کہتا ہے کہ نماز نہ پڑھو۔اُنہوں نے کہا کس جگہ ؟ وہ کہنے لگا دیکھو قرآن میں صاف لکھا ہے لا تقربوا الصلوة " نماز کے قریب بھی مت جاؤ۔حالانکہ اس سے اگلا فقرہ ہے وَ انتُمْ سُگاری کے یعنی ایسی حالت میں نماز نہ پڑھو جبکہ تم مدہوش ہو۔جیسے سخت نیند آئی ہوئی ہو یا غصہ میں ہو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں انسان کچھ کا کچھ بکواس کرنے لگتا ہے اور ممکن ہے وہ دعا کرنے کی بجائے بددعا کرنے لگ جائے۔مگر یہ فقرہ چونکہ اس کے مفید مطلب نہیں تھا اس لئے اس نے اسے چھوڑ دیا اور پہلا حصہ لے کر کہہ دیا کہ میں کیا کروں مجبور ہوں۔اگر قرآن کا حکم نہ مانوں تو گنہگار ٹھہروں۔لوگوں نے کہا اس آیت کا ذرا اگلا حصہ بھی پڑھو۔وہ کہنے لگا سارے قرآن پر کس نے عمل کیا ہے۔کوئی کسی نی حصے پر عمل کر لیتا ہے اور کوئی کسی پر۔میں اس حصے پر عمل کرتا ہوں تم دوسرے پر عمل کر لو۔اسی طرح اپنے خطبہ میں وہ جو میں نے کہا تھا کہ بعض شریر اور مفسد لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور