خطبات محمود (جلد 19) — Page 121
خطبات محمود ۱۲۱ سال ۱۹۳۸ ء مخلص ہے تو میں نے محسوس کیا کہ میری روح میں سے کوئی چیز نکل رہی ہے اور اس کی روح میں سے بھی کوئی چیز نکل رہی ہے اور وہ آپس میں مل گئی ہیں ۔ مگر جب دوسرا شخص مخلص نہ ہو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری روح اس کی روح کو دھکا دے رہی ہے ۔ اس طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ اس شخص کے دل میں جذبات تنافر پائے جاتے ہیں ۔ مگر جب ارواح کا اتصال ہو جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جذبات محبت پائے جاتے ہیں ۔ پس وہ دوست بھی جب مجھ سے ملنے آئے تو میری فطرت نے محسوس کیا کہ ان کے اندر خرابی پیدا ہو چکی ہے حالانکہ وہ اُس وقت نہایت مخلص تھے۔ آخر سالہا سال کے بعد اس دوست کو ٹھوکر لگی اور پھر ان کے خیالات میں بھی کئی تبدیلیاں پیدا ہو گئیں ۔ گو یہ بات ابتلاء تک ہی رہی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں گمراہ ہونے سے بچا لیا مگر بہر حال بات ظاہر ہو گئی اور ان کے اندر جو تنافر اور سلسلہ کے کاموں سے بے رغبتی کا جذبہ کام کر رہا تھا وہ ظاہر ہو گیا۔ کی اس پس ایسا معاملہ میرے ساتھ بھی کئی دفعہ ہوا ہے۔ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا تھا اور میرے ساتھ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ جب تک انسان اپنی فطرت کو آپ ظاہر نہیں کر دیتا وہ اسے مجرم قرار نہیں دیتا اس لئے اس سنت کے ماتحت انبیاء اور ان کے اخلال کا بھی یہی طریق ہے کہ وہ اُس وقت تک کسی شخص کے اندرونی عیب کا کسی سے ذکر نہیں کرتے جب تک وہ اپنے عیب کو آپ ظاہر نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ اس سنت کا اس بات سے ہی علم ہو سکتا ہے کہ ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے اللہ اللہ تعالیٰ اُسی وقت یہ جانتا ہے کہ بڑا ہو کر یہ مثلاً ڈا کو بنے گا ۔ مگر خدا تعالیٰ باوجود علم کے اُسے سزا نہیں دیتا ۔ یا ایک شخص کے دل میں گناہ کے خیالات پیدا ہور ہے ہوتے ہیں مگر خدا تعالی دل کے خیالات پر اُس وقت تک گرفت نہیں کرتا جب تک عمل سے ان خیالات کو وہ پورا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ یہی حال اس کے مقربین کا بھی ہوتا ہے ۔ جب وہ اپنے وہ اپنے کسی بندے کو دوسرے کا عیب بتا تا ہے تو ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیتا ہے کہ اس عیب کو ظاہر نہ کرو کیونکہ اُس وقت جب ایک شخص ظاہر میں نیک کہلاتا ہو اُس کی ظاہری نیک نامی کو بر باد کرنا بھی گناہ ہوتا ہے۔ غرض ہماری جماعت کو دنیا کا روحانی ہتھیاروں سے مقابلہ کرنے کیلئے اپنے قلوب کی