خطبات محمود (جلد 19) — Page 105
خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۳۸ ہمیں تو اس غلط عقیدہ سے دشمنی ہے جس کے مطابق انہوں نے ہمارے آدمیوں کو شہید کیا اور جسے اسلام کی تعلیم کے خلاف انہوں نے اختیار کر رکھا ہے اور اگر کوئی سچے دل سے توبہ کرلے تو کی چاہے وہ کتنا بڑا دشمن ہو ہم اسے اپنا بھائی سمجھیں گے۔آخر جو احمدی بنتے ہیں یہ کہاں سے آتے ہیں؟ یہ انہی لوگوں میں سے آتے ہیں جو احمدیت کے شدید مخالف ہوتے ہیں بلکہ ایسے ایسے شدید دشمن ہدایت پر آجاتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے ایک دفعہ بتایا کہ جلسہ سالانہ کے ایام میں ایک دن احمد یہ چوک میں تھیں چالیس آدمی باہر بورڈنگ کی طرف آ رہے تھے اور پانچ سات آدمی لنگر خانہ کی طرف سے۔جب وہ ایک دوسرے کے بالکل قریب پہنچے تو ٹھٹھک کر کھڑے ہو گئے اور حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔پھر معا وہ آگے بڑھے اور ایک دوسرے سے گلے مل کر چھینیں مار کر رونے لگے۔فرماتے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تو وہ جو زیادہ تعداد والے تھے انہوں نے بتایا کہ یہ پانچ سات آدمی ہمارے گاؤں میں سب سے پہلے احمدی ہوئے جس پر ہم نے انہیں بڑی بڑی تکلیفیں پہنچائیں ، یہاں تک کہ انہیں اپنے گاؤں سے نکال دیا۔پھر ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوا کہ یہ کہاں چلے گئے۔ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی اور ہم بھی احمدی ہو گئے۔آج یہ پہلا موقع ہے کہ ہم نے کی ان کی شکل دیکھی۔بس انہیں دیکھتے ہی ہمیں وہ تمام تکلیفیں یاد آ گئیں جو ہم نے انہیں پہنچا ئیں اور بے اختیار ہمیں یہ تصور کر کے رونا آگیا کہ آخر ہم بھی وہیں آپنچے جس جگہ یہ تھے۔تو ایسے ایسے دشمن اگر سلسلہ میں داخل ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں تو آدمیوں کی عداوت سے زیادہ اور کون سی بیوقوفی ہوگی۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ مجھے مولوی ثناء اللہ صاحب کی ذات سے بھی کبھی دشمنی نہیں ہوئی بلکہ بچپن میں جب مجھے کامل عرفان حاصل نہیں تھا میں بعض دفعہ حیران ہو کر کہا کرتا تھا کہ خدایا! کیا میرے اندر غیرت کم ہے کہ لوگ تو کہتے ہیں ہمیں مولوی ثناء اللہ پر بڑا غصہ آتا ہے مگر مجھے نہیں آتا۔تو اللہ تعالیٰ اس بات کا گواہ ہے کہ اپنی ذات میں مجھے کسی شخص سے عداوت نہیں، نہ اپنے دشمن سے اور نہ سلسلہ کے کسی دشمن سے۔افعال بے شک مجھے بُرے لگتے ہیں اور انہیں