خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 943 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 943

خطبات محمود ۹۴۳ سال ۱۹۳۸ پورے دس سال چندہ نہیں دیا۔کیونکہ ثواب نیت پر ہوتا ہے نہ کہ اس عمل پر جو انسان کے اختیار میں نہ ہو۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلا نا چاہتا ہوں کہ اس سال کے جلسہ ہیں ایک غیر معمولی تبلیغ ہوئی ہے جو پہلے سالوں میں نہیں ہوا کرتی تھی اور وہ ہندوؤں اور سکھوں کو تبلیغ ہے۔اس سال ہمارے جلسہ میں ہندوؤں اور سکھوں میں سے ایک معقول تعداد شامل ہوئی ہے۔معقول کا لفظ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد کے لحاظ سے استعمال نہیں کی کر رہا۔بلکہ پہلے زمانہ کے لحاظ سے استعمال کر رہا ہوں۔پندرہ ہیں ہندو اور سکھ دوست اس کی دفعہ ہمارے اس جلسہ میں شامل ہوئے اور وہ مجھ سے بھی ملے اور لیکچروں میں بھی شامل ہوتے رہے۔ان میں سے بعض تو درمیان میں چلے گئے مگر بعض آخر تک ٹھہرے رہے۔ان ہندوؤں اور سکھوں میں بیرسٹر بھی تھے ، وکلا بھی تھے ، انجینئر بھی تھے ، ڈاکٹر بھی تھے ، زمیندار بھی تھے ، غرض کی ہر قسم کے لوگ ان میں شامل تھے۔ہندوؤں میں چونکہ ایک لمبا عرصہ سے تعلیم کا سلسلہ جاری ہے اور مسلمانوں سے وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اس لئے ہند و تعلیم یافتہ طبقہ مسلمان تعلیم یافتہ طبقہ سے زیادہ سنجیدہ ہے۔مسلمانوں میں ابھی چھچھورا پن پایا جاتا ہے لیکن ہندوؤں میں چونکہ دیر سے تعلیم میں ترقی ہو رہی ہے اس لئے اس تعلیم کی وجہ سے آہستہ آہستہ ان میں ایک ایسا وقار پیدا ہو گیا ہے جو بالعموم مسلمانوں میں نظر نہیں آتا۔ہندوؤں میں اس روح کا پیدا ہو جانا اور پھر ان کا ہمارے پاس ہی ٹھہر نا ہمارے لئے بہت بڑی خوشی کا موجب ہے۔ایک ہندو صاحب کو تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا وہ میری تقریر کے با قاعدہ اسی طرح نوٹ لیتے رہے جس طرح باقی احمدی دوست نوٹ لیتے رہے تھے۔پس یہ ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے جسے میرے نزدیک زیادہ سے زیادہ ترقی دیتے چلے جانا چاہئے۔پچھلے آٹھ دس سال میں ہم نے غیر احمدی اصحاب کو یہاں لانے کی کوشش شروع کی ہے اور اس میں ہمیں بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔چنانچہ ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں غیر احمدی آتے اور سینکڑوں ہی بیعت کر کے جاتے ہیں۔نصف کے قریب تو ضرور ہی بیعت کر کے جاتے ہیں۔گو اگر صحیح کوشش کی جائے تو میرے نز دیک اس سے بھی زیادہ لوگ