خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 922 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 922

خطبات محمود ۹۲۲ سال ۱۹۳۸ فضل سے ابھی موجود ہے۔اب بھی میں سمجھتا ہوں ہندوستان کے بہت بڑے بڑے شہروں مثلاً لا ہور ، دہلی ، حیدر آباد اور لکھنؤ وغیرہ کو چھوڑ کر جن کی آبادی تین تین چار چار لاکھ اور بعض صورتوں میں دس دس اور پندرہ پندرہ لاکھ ہے، جو چھوٹے شہر ہیں اور جو قادیان سے دس دس بلکہ ہیں میں گنا بڑے ہیں ، ان کی جامع مسجد میں ہماری اس مسجد کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔نمازیوں کے لحاظ سے تو وہ بالکل ہی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔کیونکہ وہ تو نمازیوں سے بالکل خالی ہوتی ہیں۔۱۹۲۴ ء میں جب میں ولایت گیا تو رستہ میں قاہرہ کی مسجد دیکھنے کا اتفاق ہوا۔غالباً ظہر یا عصر کی نماز کا وقت تھا اور میں نے دیکھا کہ ایک کونے کی محراب میں ایک شخص نماز پڑھا رہا تھا تی اور پیچھے چار پانچ آدمی کھڑے تھے اور کونے کے محراب میں نماز پڑھنے کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ شرم آتی ہے کہ اتنی بڑی مسجد میں چار پانچ آدمی کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔وہ مسجد بنانے والے نے تو اتنی شاندار بنائی کہ اسے دیکھ کر پرانے زمانہ کے لوگوں کی عظمت یاد آ جاتی ہے اور کچھ عرصہ تک ممکن ہے اس میں رونق بھی رہتی رہی ہو۔مگر موجودہ نسلوں نے نماز کی طرف سے اپنی توجہ ہٹالی ہے اور اس کی پابندی کو بالکل بھلا دیا ہے لیکن ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز کی پابندی زیادہ ہے گو وہ معیار تو نہیں جو میں دیکھنا چاہتا ہوں۔یعنی یہ کہ جماعت میں کوئی ایک بھی سست نہ رہے اور ابھی ہماری جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں جو موقع کی بے موقع نماز کا ناغہ کرنے کے عادی ہیں حالانکہ جہاں تک میں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور قرآن کریم پر غور کیا ہے۔اگر کوئی شخص دس سال با قاعدہ نمازیں پڑھتا اور صرف ایک نماز بھی جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہے تو وہ ایماندار نہیں بلکہ جو کچھ میں نے قرآن کریم سے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ساری عمر میں ایک بھی نما ز عمداً چھوڑتا ہے تو وہ مسلمان نہیں۔ہاں بعض دفعہ بے ہوشی کی حالت میں چھوٹ جائے تو اور بات ہے یا بعض دفعہ سوتے ہوئے دیر ہو جائے تو اس کے لئے شریعت کا یہ حکم ہے کہ جس وقت جاگ آجائے اسی وقت پڑھ لے اور اس طرح اگر دیر سے اٹھ کر بھی کسی نے نماز ادا کر لی تو اس کی نماز ہوگئی اور اس کا وقت کی وہی تھا جب وہ بیدار ہوا۔یا جب اسے ہوش آئی۔مگر جو شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑتا ہے اس علم کے باوجود کہ نماز کا وقت ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ ابھی میں دوسرا کام کر رہا ہوں اسے ختم کرلوں تو کی