خطبات محمود (جلد 19) — Page 921
خطبات محمود ۹۲۱ سال ۱۹۳۸ء سمانہ سکتے۔قریب قریب بیٹھ کر بھی نہ سما سکتے۔دوستوں نے دیکھا ہوگا کہ مسجد کا ایک حصہ نا مکمل کی پڑا ہے۔جب اس کے متعلق میں نے سوال کیا کہ کیوں نامکمل ہے تو اس کا جواب مجھے یہ دیا گیا کہ اس کے لئے روپیہ نہیں تھا۔جو چندہ جمع ہوا تھا وہ ختم ہو گیا اور چونکہ مزید گنجائش نہ تھی اس لئے باقی حصہ نامکمل رہ گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ مسجد نور میں لاؤڈ سپیکر کا آج نہ لگنا اس لحاظ سے مفید ہو گیا کہ دوستوں کو اس جگہ آنے اور جگہ میں دقت کو محسوس کرنے کا موقع مل گیا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت جس سُرعت کے ساتھ پھیل رہی ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے اس مسجد کو ابھی بہت زیادہ پھیلنے کی ضرورت ہے۔جلسہ کے ایام کے سوا بھی جمعہ کے دن بہت سے مہمان باہر سے آجاتے ہیں اردگرد کے دیہات سے تو دوست کثرت سے آتے ہیں۔پھر قادیان کی آبادی بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ نماز پڑھا کر جب میں باہر جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ لوگ دور دور تک گلیوں میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔گلیوں میں نماز پڑھنا مناسب نہیں اس لحاظ سے بھی کہ مسافروں کو تکلیف ہوتی ہے۔اس لحاظ سے بھی کہ یہ بات نماز کے آداب کے خلاف ہے اور اسی دقت کو دیکھتے ہوئے حال میں مسجد بڑھائی گئی ہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ اب بھی لوگ گلیوں میں نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور اس لئے ابھی ضرورت ہے کہ اس مسجد کو اور زیادہ بڑھایا جائے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اب اس کے اور بڑھانے کی بظاہر کوئی صورت نہیں کیونکہ دائیں بائیں روکیں ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بلند حوصلہ لوگ ایسی باتیں نہیں کرتے اور مومن کا ایمان تو بہت ہی بڑا ہوتا ہے۔انگریزی زبان میں ایک ضرب المثل ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ جہاں ارادہ پیدا ہو جائے وہاں رستہ بھی نکل آیا کرتا ہے تو جب کسی بات کا ارادہ کر لیا جائے تو اس کے لئے آپ ہی آپ کی رستہ بھی نکل آیا کرتا ہے۔جب یہ مکان لیا گیا ہے جس میں اب صدر انجمن کے دفاتر ہیں تو میں نے یہی کہا تھا کہ یہاں دفاتر تو عارضی ہیں کسی وقت یہ مکان بھی مسجد کے کام آجائے گا۔اس کی کے ساتھ ہی ایک اور مکان بھی ہے جس میں پہلے ڈاکخانہ تھا وہ بھی مسجد کے کام آ سکتا ہے اور کی میں سمجھتا ہوں اگر ارادہ کر لیا جائے تو اس مسجد کے چاروں طرف بڑھنے کا موقع اللہ تعالیٰ کے