خطبات محمود (جلد 19) — Page 905
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء لئے دشمن کے مقابلہ سے ہٹ کر مدینہ میں آکر پناہ گزین ہو گئے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان پر سخت اظہار ناراضگی کیا اور فرمایا کہ مدینہ میں صرف ان لوگوں کی جگہ ہے جو یہاں سے نکل کر دنیا کا مقابلہ کریں۔ان لوگوں کے لئے جگہ نہیں جو ڈر کر یہاں آجائیں۔پس ایسی ہجرت قطعاً کوئی ہجرت نہیں اور اسی وجہ سے بار ہا یہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ اگر کوئی ہجرت کرنا چاہے تو ی پہلے وہ ہجرت کی مرکز سے اجازت حاصل کرے اور بغیر اجازت حاصل کرنے کے کوئی ہجرت کر کے قادیان آیا تو اُسے واپس جانے پر مجبور کیا جائے گا اور یہ کہ جماعتیں ہمیشہ ایسے ہی آدمیوں کے متعلق ہجرت کی سفارش کیا کریں جو واقع میں اخلاص اور تقویٰ رکھتے ہوں اور خدا اور اس کے رسول کی رضا کے لئے آنا چاہتے ہوں۔اپنی دنیوی ضرورتوں کی وجہ سے یہاں نہ آ رہے ہوں مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بیرونی جماعتوں نے بھی اس ضمن میں اپنے فرائض کو بالکل نہیں سمجھا۔انہیں جب کسی کے متعلق یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہجرت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو فوراً اس کی سفارش کر دیتی ہیں کہ فلاں بڑا مخلص ہے اس کے گزارہ کی یہاں کوئی کی صورت نہیں ، اسے قادیان میں آنے کی اجازت دے دی جائے یا فلاں کو احمدیت کی وجہ سے سخت تکلیف ہے ہم بڑے زور سے سفارش کرتے ہیں کہ اسے قادیان آنے کی اجازت دے کی دی جائے تاکہ وہ آرام کا سانس لے سکے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ دوحکومتوں میں جنگ ہو رہا ہو، ملک کی عزت خطرہ میں ہو ، قوم کی زندگی اور موت کا سوال ہو اور کوئی شخص میدان سے بھاگنا چاہتا ہو تو اس کے متعلق بڑے زور سے سفارش کی جائے کہ یہ شخص میدانِ جنگ سے بھاگنا چاہتا ہے اس کے لئے مرکز میں فوراً جگہ نکالی جائے۔کیا انگریزی گورنمنٹ یا دُنیا کی کوئی عقلمند اور دوراندیش گورنمنٹ ایسا ہی کیا کرتی ہے۔کیا تم نے کبھی سُنا ہے کہ میدانِ جنگ سے کوئی برطانوی سپاہی بھاگ آیا ہو اور اسے لنڈن میں شاہی محلات کے قریب جگہ دی گئی ہو۔وہاں تو اسے فوراً گولی سے اُڑا دیا جاتا ہے مگر یہاں جماعتیں ہیں کہ سفارش کر رہی ہوتی ہیں کہ فلاں کو قادیان میں بلا لیا جائے کیونکہ باہر دُشمنوں کا وہ مقابلہ نہیں کر سکتا۔میں حیران ہوں کہ جماعتیں بار بار میرے خطبات سننے کے باوجود کیوں ایسی جرات کرتی ہیں اور کس طرح یہ سفارش کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں کہ فلاں سخت مصیبت میں ہے اسے قادیان میں ہجرت کی اجازت