خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 896 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 896

خطبات محمود ۸۹۶ سال ۱۹۳۸ء میرے نزدیک کم سے کم یہ ضرور ہونا چاہئے کہ وہ لوگ جن کی کمیٹی میں نمائندگی نہ ہو اُن کے حقوق پورے طور پر ادا کئے جائیں۔ابھی جبکہ میں جمعہ کے لئے آنے والا تھا مجھے رپورٹ ملی ہے کہ یہاں ڈیفنس کمیٹی کے نام سے ایک جلسہ ہوا ہے اس میں بہت کچھ جھوٹ بولے گئے ہیں لیکن بعض باتیں ایسی ہیں جو میرے نزدیک قابل توجہ ہیں اور میں عام طور پر اس کا اظہار اس لئے کر رہا ہوں تا جماعت کی عام رائے کی اصلاح کروں ورنہ میرے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ میں ٹاؤن کمیٹی کے ممبروں کو اس کی طرف توجہ دلا دیتا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں میں یہ شکایت ہے کہ وہ محلے جو شہروں کی قدیم کی آبادی کے ہیں ان میں روشنی اور صفائی کا پورا انتظام نہیں۔اگر یہ بات درست ہے تو یہ مطالبات نہ صرف ان کے ہیں بلکہ میں بھی اپنے آپ کو ان مطالبات میں شریک سمجھوں گا۔یہ قطعی طور پر دیانتداری کے خلاف ہے کہ ہم کوئی ایسا کام کریں جس میں کسی فریق کے حقوق کو کی نظر انداز کر دیا جائے۔میں مخالفت کی پرواہ نہیں کرتا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوستوں کا یہ حق ہے کہ اگر وہ دیکھیں کہ ان کے جماعتی حقوق کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے تو سب مل کر اس کا ازالہ کریں اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی جدوجہد کریں لیکن میرے نزدیک کی احمدیوں کو اپنا معیار بہت بلند رکھنا چاہئے اور انہیں ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ دوسروں کے حقوق بھی تلف نہ ہوں۔شہریوں کو یہ باتیں بالعموم سمجھانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن قادیانی چونکہ قریب زمانہ میں گاؤں تھا اس لئے میں دیکھتا ہوں کہ کئی دفعہ جھگڑے معمولی معمولی باتوں پر پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً اگر کمیٹی سڑکیں چوڑی کرنے کے لئے بعض تھر ے گرا دے تو قدیم آبادی کے نا تعلیم یافتہ لوگ حتی کہ بعض احمدی بھی مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں۔انہیں اُس کی وقت صرف یہ خیال آتا ہے کہ ہمارا تھڑ اگر جائے گا۔یہ خیال نہیں آتا کہ اگر تھڑا نہ گرا تو گلیاں چلنے والوں کے لئے تکلیف دہ ہو جائیں گی اور راستے کھلے نہ کئے گئے تو لوگوں کی صحت پر برا اثر پڑے گا۔اس میں جہاں تک مجھے علم ہے غیر احمدی عصر کی طرف سے بھی مخالفت ہوتی ہے ، ہندو سکھ عنصر کی طرف سے بھی مخالفت ہوتی ہے اور کچھ احمدی عنصر بھی اس کی مخالفت کرتا ہے اور یہ ایک نہایت ہی نا پسندیدہ فعل ہے اور ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے تعلیم یافتہ لوگ