خطبات محمود (جلد 19) — Page 881
خطبات محمود ۸۸۱ سال ۱۹۳۸ء رہتا تھا۔باپ اسے نصیحت کرتا کہ اس طرح ان لوگوں میں بیٹھ کر وقت ضائع نہ کیا کرو یہ کی تمہارے دوست نہیں ہیں بلکہ سب کھانے پینے کے یار ہیں انہیں تمہارے ساتھ کوئی اخلاص نہیں مگر بیٹا کہتا کہ ابا جی آپ کو پتہ نہیں آپ نے ان کی باتیں کبھی نہیں سنیں یہ میرے بہت وفادار دوست ہیں۔باپ کہتا کہ باتیں کر لینا تو بالکل آسان ہے۔آخر ایک دن باپ نے بیٹے سے کہا کہ اچھا میں تمہیں تجربہ کر دیتا ہوں۔باپ کا بھی ایک دوست تھا جو سپا ہی تھا ، وہ پہلے زمانہ کا دوست تھا جبکہ یہ امیر بھی معمولی حیثیت رکھتا تھا مگر بعد میں اسے ترقی حاصل ہو گئی مگر اس کے ساتھ دوستی بدستور رہی۔لڑکا اسے حقیر سمجھتا اور دل میں کہتا کہ میرا باپ خود ایسے ذلیل لوگوں ہ ނ سے دوستی رکھتا ہے اور میرے دوستوں کو جو اچھے لوگ اور معزز آدمی ہیں پسندیدگی کی نظر نہیں دیکھتا۔باپ نے اسی دوست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آؤ دیکھیں کہ میرے اور تمہارے دوستوں میں سے سچا مخلص کون ہے اور لڑکے سے کہا کہ میں تمہیں دوستوں کا تجربہ کرانے کے لئے گھر سے نکال دیتا ہوں اور تم جا کر اپنے دوستوں سے مدد مانگنا۔بیٹے نے کہا بیشک نکال کر دیکھ لیں میرے دوست ایسے نہیں ہیں وہ مجھے سر آنکھوں پر بٹھا ئیں گے۔چنانچہ باپ نے اسے گھر سے نکال دیا اور وہ اپنے دوستوں کے ہاں چکر لگانے لگا۔اسے نکالنے کی خبر مشہور ہوگئی اور اس کے جن دوستوں کو اس کی اطلاع ہو گئی ان میں سے کئی ایک نے دروازہ پر آکر اس سے ملنا بھی گوارا نہ کیا۔کسی نے کہلوا دیا کہ میں بیمار ہوں، کسی نے کہلوا دیا کہ گھر پر نہیں ہیں اور بعض جن کو علم نہ ہوا تھا وہ آکر مل تو لیتے مگر جب وہ یہ کہتا کہ میرے باپ نے مجھے نکال دیا ہے آپ میری امداد کریں تا میں تجارت وغیرہ کا کام کرلوں۔تو بعض تو کہہ دیتے کہ افسوس اس وقت ہمارا روپیہ فلاں جگہ لگا ہوا ہے ورنہ ہم ضرور مددکرتے اور بعض کوئی اور بہانہ بنا دیتے اور بعض تو یہاں تک کہہ دیتے کہ جب تمہارے باپ کو تم پر اعتماد نہیں تو ہم کس طرح کر سکتے ہیں۔آخر وہ سب طرف سے ذلیل ہو کر باپ کے پاس آیا اور کہا کہ واقعی آپ کا کہنا سچ تھا کی میرے سب دوست مطلب کے دوست تھے۔تب باپ نے کہا کہ آؤ اب میں تمہیں اپنے دوست کا تجربہ کراتا ہوں۔وہ بیٹے کو ساتھ لے کر رات کے بارہ ایک بجے اپنے اس دوست کے مکان پر پہنچا اور دستک دی اور کہا کہ جلدی باہر آؤ۔اس نے جواب دیا کہ کون ہے اور جب