خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 876 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 876

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء چھوٹی چھوٹی روکیں بھی ان کے لئے پہاڑ بن جاتی ہیں حالانکہ ویسے ہی موانع اور ویسی ہی روکیں ان کے ہمسائے کے لئے بھی پیش آئیں مگر اس نے ان کے باوجود قربانیوں میں کوئی کمی نہیں کی ہوتی بلکہ زیادتی کر کے اور ثواب حاصل کیا ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے مؤمنوں کو دوسروں پر گواہ بنایا ہے یہ اس کے معنی میں تو یہی کیا کرتا ہوں کہ قیامت کے روز لوگ آکر اپنے موانع پیش کریں گے اور کہیں گے ہماری راہ میں یہ مشکلات تھیں اس لئے ہم قربانی نہ کر سکے تب اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو پیش کرے گا اور کہے گا کہ یہ بھی تمہاری ہی طرح کے انسان تھے، ان کو بھی ضرورتیں تھیں ، ان کے لئے بھی مشکلات تھیں لیکن ان سب کی موجودگی میں یہ قربانیاں کرتے رہے، تو پھر تمہارے عذر کس طرح قابل اعتناء ہو سکتے ہیں۔جب تک انسان کے سامنے نمونہ نہ ہو اس پر حجت نہیں ہو سکتی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کے لئے گواہ بنایا ہے اور مسلمانوں کو بحیثیت کی جماعت دوسری قوموں پر گواہ بنایا ہے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لئے حجت ہیں تا ان میں سے کمزور اور بزدل جب اپنے عذرات پیش کریں تو اللہ تعالیٰ ان سے کہے کہ ڈ نیوی سامانوں کے لحاظ سے تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کمزور نہ تھے اگر انہوں نے ان بےسامانیوں کے باوجود قربانیاں کیں تو کیا وجہ ہے کہ تم نہ کر سکے اور اسی طرح دوسری قوموں کے کی عذرات کے جواب میں اللہ تعالیٰ کہے گا کہ مسلمان بھی تمہاری ہی طرح کے انسان تھے ، ان کی کی راہ میں بھی اسی طرح رکاوٹیں اور مشکلات تھیں اور جب ان کے باوجود انہوں نے قربانیاں کیں تو تم کیوں نہ کر سکتے تھے۔ہر جماعت میں کوئی گروہ ایسا ہوتا ہے جو نمونہ ہوتا ہے، اور وہ مشکلات ، رکاوٹوں اور موانع کے باوجود قربانی کرتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ دوسروں پر بطور شہید کی کھڑا کرتا ہے کہ یہ بھی تمہارے ہی جیسے انسان ہیں اور جب انہوں نے تکالیف اور اپنی ضرورتوں کے باوجو د کو تا ہی نہیں کی اور انہی حالات میں آگے بڑھے ہیں تو تم کیوں نہیں کر سکتے تھے۔بازار میں ایک دکاندار نماز کے وقت اٹھ کر چلا جاتا ہے اور دوسرا نہیں جاتا اور وہیں بیٹھا رہتا ہے اور اگر پوچھا جائے تو کہتا ہے کہ دکان اکیلی ہے کس طرح جاؤں تو دوسرے کا نمونہ اس کے سامنے پیش کر کے اسے کہا جاسکتا ہے کہ دکان دوسرے کی بھی اکیلی تھی اور جب وہ