خطبات محمود (جلد 19) — Page 84
خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۳۸ء بیسیوں مسائل ایسے ہیں کہ جو ہم مدرسہ میں پڑھتے تھے مگر باوجود یا د ہونے کے ان کو اچھی طرح نہیں سمجھتے تھے۔مگر جب بعد میں پڑھانے کا موقع ملا اور بچوں نے یا دوسرے لوگوں نے ان کے متعلق سوالات کرنے شروع کئے تو ان کی سمجھ آئی۔تو علم صرف پڑھنے سے نہیں بلکہ دوسروں کو پڑھانے اور سمجھانے سے آتا ہے۔باہر کی جماعتوں کیلئے بھی یہ بات ضروری ہے مگر قادیان کے دوستوں کو بالخصوص اس طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ یہاں کے لوگوں میں علمی کمی بہت زیادہ ہے۔جس طرح باہر کا کوئی کی احمدی زمیندار گود گود کر مولوی کے پاس جاتا اور کہتا ہے کہ آپ کہتے کیا ہیں؟ میرے ساتھ بات کریں۔یہاں کے لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔یہاں کے کئی لوگ خلافت وغیرہ کے متعلق بعض مسائل دریافت کرتے رہتے ہیں لیکن باہر سے کبھی کسی نے ایسی باتیں نہیں پوچھیں کیونکہ یہاں نہ ان کو اعتراضات سننے کا موقع ملتا ہے اور نہ ان کے جواب معلوم کرنے کی طرف توجہ ہوتی ہے اس لئے ان کا علم نہیں بڑھتا۔خدا کی قدرت ہے ہم قادیان والوں کے حصہ میں غیر احمدی مولوی بھی وہی آئے ہیں جو لٹھ مار ہیں اور دلائل وغیرہ کوئی نہیں دیتے۔صرف یہی کہتے ہیں کہ احمدیوں کو مارو اور گوٹو اور ہماری جماعت سے علمی بحث نہیں کرتے۔جس کی وجہ سے علمی ترقی جماعت کی نہیں ہوتی۔پس میں قادیان کے دوستوں کو خصوصیت سے نصیحت کرتا ہوں کہ جمعہ سے سبق حاصل کریں اور تبلیغ کیلئے نکلیں اور ایسے لوگوں کو تبلیغ کریں کہ ان کا اپنا علم بھی بڑھے اور ان کے اندر سے عرفان اور پھر عرفان سے نور پیدا ہو۔تبلیغ بجائے خود ایک تعلیمی مدرسہ ہوتا ہے۔بعض اوقات انسان کو خود توجہ نہیں ہوتی مگر جب کوئی اعتراض کرتا ہے تو پھر ا سے توجہ پیدا ہوتی ہے۔حضرت عمر بن عبد العزیز ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں جن کو عمر ثانی بھی کہا جاتا ہے۔بلکہ ظاہری شریعت پر عمل کرنے میں وہ بعض کے نزدیک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی کی بہت زیادہ متشدد تھے۔ان سے پہلے بادشاہوں میں سے ایک ولید بن عبد الملک تھا۔اس کی تعلیم بہت خراب تھی۔حضرت عمر بن عبد العزیز اس سے کہا کرتے تھے کہ آپ کچھ صرف نحو پڑھ لیں کیونکہ آپ کی بات بعض اوقات غلط ہو جاتی ہے مگر وہ پرواہ نہیں کرتا تھا۔ایک دفعہ اس کے