خطبات محمود (جلد 19) — Page 80
خطبات محمود ۸۰ سال ۱۹۳۸ء ہو گئے ہیں اور جو دہریت سے بچ گئے ہیں ان میں سے کئی بڑے بڑے لوگ ان کے ساتھ ہیں۔گویا جماعت تین حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔کچھ حصہ تو دہر یہ ہو گیا ہے باقیوں میں سے مخلص اور سمجھدار طبقہ مصری صاحب کے ساتھ ہے اور بچے کھچے کچھ بیوقوف یا کچھ اہل غرض عقلمند یا ناواقف لوگ میرے ساتھ ہیں اور ایسی باتوں سے ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ تا ہر شخص یہی سمجھے کہ جماعت اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔اسی طرح احرار کا فتنہ اُٹھا تو روز اس قسم کی اطلاعات کی آتی تھیں کہ ہوشیار رہیے کہ آج اطلاع ملی ہے کہ احرار نے میاں بشیر احمد صاحب کو قابو کر لیا ہے، آج خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب نے مولوی عنایت اللہ کو خط لکھا ہے کہ میں بھی تمہارے ساتھ ہوں ، آج چوہدری فتح محمد صاحب نے احرار کو پیغام بھیجا ہے کہ میں بھی خلیفہ سے بیزار اور تمہارے ساتھ ہوں۔اسی طرح اب مصری صاحب کہہ رہے ہیں کہ فلاں شخص بھی ہمارے ساتھ ہے اور فلاں بھی اور اس سے ان کی غرض صرف یہ ہے کہ جماعت کے اندر فتنہ پیدا کیا جائے اور تفرقہ ڈالا جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان اور اس کے دوست مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ڈراتے ہیں کہ تمہاری طاقت ٹوٹ رہی ہے اور تم کمزور ہور ہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ سبق دیا ہے کہ اگر تم دشمن پر فتح پانا چاہتے ہو تو ا کٹھے ہو جاؤ اور ڈرو نہیں لے دشمن اگر زبر دست ہے تو کیا ، ہم نے تو اس کا مقابلہ نہیں کرنا، مقابلہ کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔جماعت احمدیہ کا سہارا بندے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے اور اگر اس کی کے گرنے کا خطرہ ہے تو خدا تعالیٰ کو ڈرنا چاہئے جس کی یہ جماعت ہے ہماری تو ہے نہیں کہ ہم ڈریں۔بندے کا کیا ہے وہ تو کپڑے جھاڑ کر پھر کھڑا ہو جائے گا۔انسان کا فرض صرف یہ ہے کہ کہ وہ دیانت داری کے ساتھ کوشش کرے۔اس کے بعد اگر دشمن زبر دست ہے اور اس وجہ سے جماعت کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے۔لیکن یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مقابل پر بندوں کو کوئی کامیابی ہو سکے۔انسان کی مثال اللہ تعالیٰ کے مقابل پر ایسی بھی نہیں جیسی بیل کے مقابلہ پر مچھر کی۔کہتے ہیں کسی بیل کے سر پر مچھر آ کر بیٹھ گیا بیل کو تو اس کا پتہ تک نہ لگا۔مگر تھوڑی دیر کے بعد مچھر کہنے لگا کہ بھائی ! بیل تم بھی جانور ہو اور میں بھی جانور ہوں اس لئے تم سے ہمدردی رکھتا